خطبات محمود (جلد 18) — Page 295
خطبات محمود ۲۹۵ سال ۱۹۳۷ء ہونے کا ہم یہ مفہوم نہیں لیتے کہ وہ احمدی نہیں۔بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ مبائع احمدی نہیں۔یعنی خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے والی جماعت کا وہ حصہ نہیں وہ بیشک پہلے ہمارے ساتھ تھا مگر اب و کٹ گیا اور ہماری جماعت سے الگ ہو گیا ہے۔تو یہ کتنا بڑا دھوکا ہے کہ ایک شخص ۲۳ سال ہمارے اندر رہتا ہے، جماعت کی اصطلاحات اور محاورات سے واقف ہے خود بھی یہ محاورہ استعمال کرتا رہتا ہے مگر جونہی وہ جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے کہتا ہے مجھ پر اتہام لگایا جاتا ہے کہ میں احمدی نہیں رہا۔سوال یہ ہے کہ کس نے تمہیں کہا کہ تم احمدی نہیں رہے۔جب کسی نے بھی ایسا نہیں کہا تو تمہارا جماعت پر یہ الزام لگانا بتا تا ہے کہ خود تمہارے دل میں کوئی شکوک پیدا ہوئے ہیں جن کو تم دوسروں کی کی طرف منسوب کرتے ہو۔ہمارا تو یہ طریق ہی نہیں کہ جب کو ئی شخص ہماری جماعت میں سے الگ ہو تو اُس کے متعلق ہم یہ کہنا شروع کر دیں کہ وہ احمدی نہیں رہا۔خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق بھی ہم یہی کہتے تھے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کے متعلق بھی یہی کہتے تھے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔اسی طرح باقی تمام غیر مبائعین کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔ہاں نی ساتھ ہی ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سب احمدی ہیں اور ہم انہیں احمدی ہی سمجھتے ہیں گواحد یہ جماعت میں نہیں سمجھتے۔چنانچہ جب کبھی پیغامیوں اور ہماری جماعت میں مباحثہ ہو تو ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ جماعت تو ہماری ہی ہے جو ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکی ہے تم لوگ پراگندہ اور متفرق ہو۔تمہارا حق نہیں کہ تم اپنے آپ کو جماعت کہو۔پھر میرے متعد د فتوے موجود ہیں جن میں دوستوں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ کیا غیر مبائعین کے پیچھے نماز جائز ہے؟ اور میں نے ہمیشہ انہیں یہی جواب دیا کہ جائز تو ہے مگر مگر وہ ہے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم امام اُس شخص کو بناؤ جو تم میں سے اتقی اور معزز ہو۔وہ لوگ چونکہ خلیفہ وقت کا انکار کر کے وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ کے ماتحت آچکے ہیں اس لئے ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا پسندیدہ فعل نہیں سمجھا جا سکتا۔ہاں اگر کسی موقع پر مجبور ہو جاؤ تو نماز کے ادب کے لحاظ سے یہ جائز ہے کہ تم کسی غیر مبائع کے پیچھے نماز پڑھ لو۔لیکن کیا یہی فتوی ہم نے کبھی غیر احمدیوں کے متعلق بھی دیا ہے کہ اگر مجبور ہو جاؤ تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لو۔جب نہیں تو صاف معلوم ہوا کہ ہمارے