خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 296

خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۳۷ء نزدیک بیعت سے الگ ہونا اور چیز ہے اور احمدیت سے الگ ہونا اور چیز۔اب با وجود یکہ پیغامیوں کو ہم اپنی جماعت میں نہیں سمجھتے ، پھر بھی ہم انہیں احمدی ہی کہتے ہیں۔کیونکہ جماعت اور چیز ہے اور احمدیت اور چیز۔جماعت متفرق ہو جاتی ہے مگر مذہب دنیا میں باقی رہتا ہے۔خلافت راشدہ جب دنیا سے مٹی تو جماعت بھی ساتھ ہی مٹ گئی مگر اس کے ساتھ مذہب نہیں مٹا۔بلکہ مسلمانوں کی کئی جماعتیں بن کر کوئی افغانستان میں قائم ہوگئی ، کوئی ایران میں ، کوئی عرب میں ان قائم ہوگئی اور کوئی سپین میں۔پس با وجود اس کے کہ مسلمان دنیا میں متفرق ہو گئے مذہب ان کے پاس تی رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خلافت موجود نہ ہو تو بیعت میں نہ شامل ہونے والے کا اور حال ہوتا ہے اور جب موجود ہو تو اور ہوتا ہے۔جس طرح پانی کی موجودگی میں تیم کرنے والے اور عدم موجودگی میں تیم کرنے والے میں فرق ہے۔لیکن پھر بھی ہم یہ نہیں کہتے کہ جس نے بیعت توڑ دی وہ مسلمان نہیں ہے رہا۔ہاں اُس شخص کو گنہگار اور روحانیت سے دور ہو جانے والا ضرور قرار دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اگر اس کے نفس میں شرارت ہے تو وہ ایمان سے کسی دن محروم ہو جائے گا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء ہمارے ساتھ عقائد میں بھی اختلاف رکھتے ہیں۔مثلاً وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے قائل نہیں۔وہ آپ کے کی منکروں کے متعلق یقین رکھتے ہیں کہ ان میں بھی بزرگ اور نیک ہو سکتے ہیں۔لیکن اس وقت تک کی شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے کوئی ایسا علان نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے قائل نہیں۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کے متعلق تو یہ کہیں کہ وہ احمدی ہیں اور مصری صاحب کے متعلق یہ کہیں کہ وہ احمدی نہیں۔جنہوں نے عقائد میں ہم سے بہت زیادہ اختلاف کیا جب ہم انہیں بھی آج تک احمدی کہتے رہے اور کہتے ہیں تو مصری صاحب کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ چونکہ انہوں نے بیعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اس لئے وہ احمدی نہیں رہے۔پس یہ کیسی چالبازی ہے کہ کہا جاتا ہے ” حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فسخ کر لیا۔مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔یہ سوال تو تب ہوتا جب ہم کہتے کہ چونکہ مصری صاحب نے بیعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اس لئے وہ غیر احمدی ہو گئے ہیں۔لیکن جب ہم نے یہ کہا ہی نہیں تو ایک جھوٹی ہے