خطبات محمود (جلد 18) — Page 286
خطبات محمود ۲۸۶ سال ۱۹۳۷ء طرف بھی اور دم کی طرف بھی ) مگر اب اس میں بھاگنے اور حملہ کرنے کی طاقت نہیں رہی۔وہ کھسکتا ہے۔عورت اس کے پاس آئی مگر بچہ وہیں بیٹھا رہا۔وہ لکڑی کے ساتھ اُسے ہلاتی ہے۔میں بھی ایک سرا ہلا رہا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ سانپ چھوٹا ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ڈیڑھ بالشت کے قریب رہ گیا تی اور ساتھ ہی پتلا بھی ہوتا گیا۔پھر دائیں طرف ایک درخت کے نیچے آگ جلتی ہوئی نظر آئی۔میں نے اس عورت سے کہا کہ اس کا ایک ٹکڑ اکٹڑی سے کم اٹھاؤ اور ایک میں اُٹھاتا ہوں اور اسے آگ میں ڈال دیں تا جل جائے۔میں نے تو ایک ٹکڑا آگ میں ڈال کر او پر بوجھ رکھ دیا اور وہ جل کر راکھ ہو گیا۔دوسرا حصہ جو اس عورت کو میں سمجھتا ہوں ہماری رشتہ دار ہے مگر خیال نہیں کہ کون ہے ، آگ میں ڈالنے کیلئے کہا تھا وہ اس نے پھینکا تو بجائے آگ کے وسط میں گرنے کے آگ کے آخری حصہ میں جا گرا۔اس پر میں کہتا ہوں کہ یہ آگے نکل نہ جائے اس لئے میں نے ایک اینٹ اُٹھا کر اُس کے اوپر پھینک دی تا وہ اچھی طرح جل جائے پھر اُسے آگ لگ گئی اور وہ جل گیا۔مگر اس کا سر ایک چھوٹی انگلی کی اوپر کی پور کے برابر آگ سے نکل کر جھاڑی کی جڑ کی طرف چلا گیا۔میں اسے بھی مارنا چاہتا ہوں مگر وہ چھوٹا ہونے کی وجہ ی سے نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔اب اس کی یہ تعبیر بھی ہو سکتی ہے کہ اس فتنہ کا تھوڑا سا حصہ باقی رہ جائے گا اور یہ بھی کہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔کیونکہ کہتے ہیں کہ سانپ جب زخمی ہو جائے تو پھر بچ نہیں سکتا۔پس اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ یہ اس طرح ذلیل ہوں گے کہ کوئی اثر ان کا جماعت میں نہ رہے گا۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے کچھ لوگ ذلیل ہو کر مخفی مخفی جماعت میں شامل رہیں جس طرح رسول کریم ے کے زمانہ میں بعض منافق رہ گئے تھے۔جنہوں نے بعد میں بہت سی گندی روایات تاریخ اسلامی میں داخل کر دیں یہ بھی اندر رہ کر فتنہ پیدا کرتے رہیں۔پس میں نہ بندوں پر اعتماد کرتا ہوں اور نہ ریزولیوشنز پر۔میرا بھروسہ تو اپنے خدا پر ہے۔میں بتا رہا تھا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ مصری صاحب نے کوئی قربانی کی ہے۔پہلے انہوں نے مجھے ڈرا کر فائدہ حاصل کرنا چاہا اور اسی کوشش میں جب ان کا اندرونہ ظاہر ہو گیا تو وہ سمجھ گئے کہ اب تو مجھے نکال ہی دیں گے۔اس لئے خود ہی لکھ دیا کہ اگر چوبیس گھنٹے تک میری تسلی نہ کی گئی تو میں جماعت ނ سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔حالانکہ پہلے خط میں صاف لکھا تھا کہ فخر دین صاحب کو معاف کرد و تو بدنامی سے بچ جاؤ گے۔بیشک انہوں نے ایک جواری کی طرح ایک ہی دفعہ بازی لگا دی تھی کہ اگر ڈر گئے تو ہم