خطبات محمود (جلد 18) — Page 242
خطبات محمود ۲۴۲ سال ۱۹۳۷ء میں انہیں ضروریات زندگی تک حاصل نہیں ہوتیں۔ہاں اگر وہ اسی پر اصرار کریں کہ ہم نے ضرور احمدی دُکانداروں سے سو دا خریدنا ہے تو یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی ہمارا شدید مخالف دھوپ کے وقت کی دوسرے مکانات کو چھوڑ کر ہماری ڈیوڑھی میں آبیٹھے اور اصرار کرے کہ میں نے اسی ڈیوڑھی میں بیٹھنا کی ہے۔ہر شخص اس بھلے مانس سے کہے گا کہ کیا تجھے اس ڈیوڑھی کے سوا کہیں سایہ نظر نہیں آتا۔اگر اور بھی سائے کی جگہیں ہیں تو سب جگہوں کو چھوڑ کر اس ڈیوڑھی میں آنے کا مطلب سوائے فساد کے اور کیا ہے۔اسی طرح جب آٹا غیروں سے مل جاتا ہے ، گوشت غیروں سے مل جاتا ہے، کپڑا غیروں سے مل جاتا ہے، کھانے پینے کی تمام چیزیں غیروں سے مل جاتی ہیں تو آخر کچھ نہ کچھ بھی تو ہے جو تم ان سب کو چھوڑ کر ایک احمدی سے سودا خریدنا چاہتے ہو۔پس ان کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو یہاں غیروں کے ذریعہ پوری نہ ہو سکتی ہو۔غیر احمدی مزدور یہاں کثرت سے ملتے ہیں ، لوہار اور ترکھان احمدیوں کے علاوہ سکھوں اور ہندوؤں میں بھی موجود ہیں ، دودھ دینے والے کثرت سے مل سکتے ہیں بلکہ جتنی گائیں اور بھینسیں سکھوں ، ہندوؤں اور غیر احمدیوں کے پاس ہیں اس سے آدھی بھی احمدیوں کے پاس نہیں پھر ان کا یہ شور مچانا کہ ضروریات زندگی ان تک پہنچنے سے روک لی گئیں ہیں کس قدر جھوٹ اور دُور از حقیقت ت ہے۔ایک دوست نے یہاں چند دن ہوئے تقریر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صرف احمد یہ لٹریچر ایسی کی چیز ہے جو غیر احمد یوں یا ہندوؤں اور سکھوں سے نہیں مل سکتا۔مگر یہ لٹریچر خود میاں فخر الدین صاحب کے گھر میں بکثرت موجود ہے۔میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے وہ کہیں کہ ہمیں کوئی یونانی طبیب چاہئے ہم ڈاکٹروں سے علاج نہیں کراتے۔اور غالباً غیر احمدیوں یا سکھوں اور ہندوؤں میں یہاں کوئی یونانی طبیب نہیں۔مگر اس ضرورت کیلئے بھی انہیں احمدی طبیبوں کی ضرورت نہیں یونانی طبیب خود ان کے پاس کی حکیم عبدالعزیز موجود ہے۔اسی طرح شاید وہ یہ کہیں کہ ہم اپنے بچوں کو دینیات پڑھانا چاہتے ہیں مگر یہاں ہندوؤں ،سکھوں اور غیر احمدیوں میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو د مینیات پڑھا سکے۔سو اس ضرورت کیلئے بھی انہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں خود مصری صاحب موجود ہیں وہ دینیات پڑھا سکتے ہیں۔غرض احمد یہ لٹریچر غیر احمدیوں اور سکھوں اور ہندوؤں کے پاس نہیں مل سکتا وہ میاں فخر الدین صاحب کے پاس موجود ہے۔دیسی طبیب یہاں غیر احمدیوں اور سکھوں اور ہندوؤں میں کوئی نہیں یا کم از کم جہاں تک مجھے علم ہے کوئی نہیں لیکن وہ ان کے پاس حکیم عبد العزیز کی صورت میں موجود ہے۔اسی طرح