خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 231

خطبات محمود ۲۳۱ سال ۱۹۳۷ء چنانچہ میں نے اپنے بعض خطبوں میں بھی یہ بیان کیا ہوا ہے کہ احمدیت سے نکالنا میرا کام نہیں۔ہاں جماعت سے نکالنا میرا اختیار ہے اور یہ کہ جب تک کوئی شخص اپنے آپ کو احمدی کہے گا ہم بہر حال اسے احمدی کہیں گے بشرطیکہ کوئی وجہ اس میں ایسی نہ پائی جائے جو مذ ہبا اسے احمدیت سے نکال دیتی ہو۔پھر میں نے یہاں تک کہا ہوا ہے کہ احمدیت سے نکالنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی کام نہیں بلکہ اپنے مذہب سے خارج کرنا کسی نبی کا بھی کام نہیں۔مذہب سے خدا ہی نکال سکتا ہے، نبی بھی نہیں نکال سکتا۔پس جماعت سے نکالا جانا ایک اصطلاح ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ شخص ہمارے نظام سے الگ ہو گیا۔باقی یہ کہ اس کے بعد اس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی ایمان رہا ہے یا نہیں ، اس کے متعلق فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی کام نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی احمدیت سے اُسے ہی خارج سمجھیں گے جو وہ امور کرے جن کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے انسان کے مذہب سے خارج ہو جانے کا فیصلہ فرمایا ہو۔ہم بھی ایسے ہی شخص کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ وہ احمدیت سے نکل گیا ہے۔اور جب ہم کسی شخص کو جماعت سے خارج کرتے ہیں تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ نظام سلسلہ سے اس کے خروج کے متعلق ہم اعلان کرتے ہیں۔اگر جماعت سے الگ ہونے کے بعد وہ احمدیت ترک نہ کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کامل ایمان رکھیں تو ہم کون ہیں جو انہیں احمدیت سے نکال سکیں۔پس مصری صاحب کا یہ اعتراض کہ میں نے تو کہا تھا میں آپ کی بیعت سے الگ ہوتا ہوں اور ی میرے متعلق کہا یہ جا رہا ہے کہ میں جماعت سے الگ ہو گیا ہوں ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے میں نے فلاں شخص کو اپنی چار دیواری سے نکلنے کو کہا تھا ، گھر سے نکلنے کیلئے تو نہیں کہا تھا۔جب چار دیواری کا نام ہی گھر ہے تو جب کوئی شخص چار دیواری میں سے نگل گیا وہ گھر میں سے بھی نکل گیا۔اسی طرح کی جماعت جب نام ہے اُس نظام کا جو بیعت کے ذریعہ قائم ہے تو جب ایک شخص بیعت سے نکل گیا تو اُسی وقت وہ جماعت سے بھی علیحدہ ہو گیا۔ہاں اگر وہ اپنی جماعت بنالیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نیا خلیفہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں خوارج کی جماعت میں شامل سمجھ لیا جائے گا۔ہماری جماعت سے تو وہ یقیناً نکل چکے ہیں۔ہاں اگر خدانخواستہ جماعت احمدیہ کسی وقت سب کی سب ان کے ساتھ شامل ہو جائے تو پھر چونکہ اور کوئی جماعت نہیں رہے گی اس لئے انہی کی جماعت جماعت کہلا سکے گی۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کے