خطبات محمود (جلد 18) — Page 18
خطبات محمود ΙΔ سال ۱۹۳۷ء اور آہ وزاری کر رہی ہو۔میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہو ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا کر رہے ہیں اور یہ فقرہ بار بار آپ کی زبان پر آتا ہے کہ الہی ! اگر مخلوق اسی طرح طاعون سے تباہ ہوتی گئی تو تیرے پیغاموں پر ایمان کون لائے گا؟ یہ ہے ہمارا امام مگر تم ہو کہ ہر نیکی کے کام پر بعض منافق شرارت سے اور بعض کمزور بیوقوفی سے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ کام نہ کریں، ہمارا کیا واسطہ ہے۔حالانکہ دنیا سے واسطہ ہمارا ہی ہے۔لوگ اگر ڈو میں تو بہچانا ہمارا فرض ہے، اگر قحط سے مریں تو کھلانا ہمارا فرض ہے، اگر لڑ نے تو صلح کرانا ہمارا فرض ہے اور اگر لڑ پڑیں تو حقدار کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے اور اگر ابھی مادی طور پر ہم کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہمیں دعا تو ضرور کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ جب تک امام نہ کہے کہ کیا دعا کرنی ہے اُس وقت تک یہی دعا کرتے رہو کہ الہی ! جس میں تیرے دین اور اسلام کی خیر ہو وہی کر دے۔پس زمانہ سخت نازک ہے۔پھر بھائی بھائی کا گلا کاٹنے کو تیار ہے۔دنیا پھر ایک بار قیامت کا نظارہ دیکھنے کیلئے بیتاب ہے اور اگر ہمارے ہاتھوں میں نہیں تو ہمارے دل میں طاقت ضرور ہے اس لئے ہمیں اپنے قوی دل لے کر خدا تعالیٰ کے پاس جانا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اِن لوگوں کو سمجھ دے اور وہ لڑائی سے بچ جائیں اور اگر لڑائی ہو تو غلبہ اُسے عطا کرے جس کا جیتنا اسلام کیلئے مفید ہو۔اور اللہ تعالیٰ برطانوی حکومت کو بھی صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دے اور اسے ایسے نقصان سے بچائے جو سلسلہ اور اسلام کیلئے نقصان کا موجب ہو۔پھر ہمیں ترکوں کیلئے بھی دعا کرنی چاہئے آخر وہ اسلام کے نام لیوا ہیں۔اگر لڑ نا ان کیلئے مضر ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لڑائی سے بچالے۔اور اگر مفید ہو تو ان کے ہاتھوں میں طاقت وقوت عطا کرے اور ان کے دشمنوں کے ہاتھوں کوشل کر دے تا یہ بہادر قوم جو سینکڑوں سال سے مسیحی دنیا کے تعصب کا شکار ہو رہی ہے، اسلام کے نام کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا نہ ہو۔( الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۳۷ء ) ہلاکو خان اس کا دور حکومت ۱۲۵۱ ء تا ۱۲۶۴ ء ہے۔یہ ایران کے اہل خانی خاندان کا بانی اور چنگیز خان کا پوتا تھا۔باپ کا نام تولی خان تھا۔اس نے ایران کے مختلف حصوں کو یکجا کر کے ایران میں ایل خانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔اپنے بھائی منگو قآن کی ہدایت پر ۱۲۵۱ء میں