خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 153

خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۷ء ان لوگوں کا ہے انہوں نے بھی بڑھ بڑھ کر باتیں کیں اور جماعت کو مزید مشکلات میں مبتلا کر دیا اور ی جب کبھی ان کی مدافعت کی غلط تدبیروں سے فساد اور بڑھ گیا اور اس کے نتائج کو برداشت کرنے کا وقت آیا تو کمزوری دکھا دی اور مقدمہ لڑ کر اِس امر کی کوشش شروع کر دی کہ ان کی بریت ہو جائے۔حالانکہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دے گا میں ضرور اسے سزا دوں گا۔تو اگر اس کا یہ مقولہ صحیح ہے تو سزا دینے کے بعد اسے دلیری سے اپنے جرم کا اقرار کرنا چاہئے اور اسے ی کہنا چاہئے مجھے جہاں چاہتے ہو لے جاؤ۔میں نے اس کے منہ سے گالی سنی اور میں اسے برداشت نہیں کر سکا۔فرض کرو کوئی شخص کہتا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دے گا میں اُسے جُھوٹی ماروں گا۔اگر اسے ہماری تعلیم سے اتفاق نہیں تو جائے اور اُسے جوتی مارے اور پھر نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہے۔مگر ادھر تو وہ ہماری رائے سے اتفاق نہیں کرتا اُدھر جب دوسرے کو مار کر آتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے فعل کے جواب دہ تم ہو۔یا درکھو دنیا میں قیام امن دو ذرائع سے ہوتا ہے یا اُس وقت جب مارکھانے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے یا جب دوسرے کو مارنے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے ، درمیانی دوغلہ کوئی چیز نہیں۔اب جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم میں مار کھانے کی طاقت ہونی چاہئے۔بالکل ممکن ہے تم میں سے بعضوں کا یہ خیال ہو کہ ہم میں مارنے کی کی طاقت ہونی چاہئے۔میں اسے غیر معقول نہیں کہتا ہاں غلط ضرور کہتا ہوں۔یہ ضرور کہتا ہوں کہ اُس نے قرآن کریم کو نہیں سمجھا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کونہیں سمجھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے مارنے کیلئے جو شرائط رکھی ہیں وہ اس وقت ہمیں میسر نہیں۔پس کم سے کم میں اسے شرارتی یا پاگل نہیں کہوں گا میں زیادہ سے زیادہ یہی کہوں گا کہ اُس کی ایک رائے ہے جو میری رائے سے مختلف ہے۔لیکن تمہاری یہ حالت ہے کہ تم میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے اور پھر جب وہ ہماری تعلیم کے صریح خلاف کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے تو بھاگ کر ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے مجھے بچانا مجھے بچانا۔آخر جماعت تمہیں کیوں بچائے؟ کیا تم نے جماعت کے نظام کی پابندی کی یا اپنے جذبات پر قابو رکھا ؟ اور اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے تو پھر تمہیں ہمارے پاس بھاگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے۔تمہیں چاہئے کہ تم دلیری دکھاؤ اور اپنے جُرم کا اقرار کرو۔اگر ان دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی