خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ سال ۱۹۳۷ء مقدمات کے بارہ میں نہیں کہتا۔بعض مقدمات سلسلہ کی ضروریات کیلئے خود کئے گئے ہیں اور نہ سب کی آدمیوں کے متعلق کہتا ہوں جو ان میں مبتلا تھے۔مگر چونکہ اصل لوگوں کو ظا ہر نہیں کرنا چاہتا میں نے بات کو عام رکھا ہے تا کسی خاص شخص پر الزام نہ آئے اور اس نوٹ کے ذریعہ سے میں نے اس کا بھی ازالہ کر دیا ہے کہ نا کردہ گناہ لوگوں پر کوئی بدظنی کرے )۔میں پوچھتا ہوں بھلا گالیاں دینے یا بے فائدہ جوش دکھانے میں کونسی خوبی اور کمال ہے۔کیا موچی دروازہ کے غنڈے گالیاں نہیں دیتے ؟ اگر تم بھی دشمن کے جواب میں زبان سے گالیاں دیتے چلے جاتے ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جائے گا کہ تم نے وہ کام کیا جو حق کے دشمن کر رہے ہیں مگر تمہاری اس حرکت کو قربانی قرار نہیں دیا جائے گا۔قربانی وہ ہوتی ہے جسے عام آدمی پیش نہ کر سکے۔مگر تقریر کیلئے کھڑے ہو جانا اور اس میں پندرہ ہیں گالیاں دے دینا یہ تو ہر شخص کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔پس صرف اس لئے کہ کوئی شخص بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے، مخلص اور مومن نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ مخلص وہ ہے جو اس چیز کو پیش کرے جسے عام لوگ پیش کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔تم چلے جاؤ لا ہور میں یا اور کسی شہر میں اور چلے جاؤ بداخلاق نمائندگان مذاہب کی مجالس میں تمہیں یہی نظر آئے گا کہ جو شیلے اور فسادی لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے ، پتھر پھینکتے اور تالیاں پیٹتے ہیں۔مگر مخلص وہ قربانی کرتے ہیں جو دوسرے نہیں کرتے۔لاہور میں ہی جب کوئی فساد ہو، کمزور اخلاق کے لوگ ہمیشہ بڑھ بڑھ کر لاٹھی چلائیں گے۔لیکن جب اسلام کیلئے مال کی قربانی کا سوال ہو تو پیچھے ہٹ جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ ہم گالیاں دیں، اٹھ ماریں اور پھر پلاؤ زردہ کھائیں۔پس گالیاں دینا تو کمزور طبع لوگوں کا کام ہے کامل مومنوں والا کام نہیں اور اگر واقعہ میں ان میں اخلاص ہوتا تو جن لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا تھا وہ کہتے ہم جماعت کا ایک پیسہ بھی اس پر خرچ نہیں ہونے دیں گے ہم نے اپنی ذمہ واری سے کام کیا ہے اور اب اس بوجھ کو بھی یا خود برداشت کریں گے یا برداشت نہ کر سکنے کی صورت میں قید ہو جائیں گے۔جماعت کے پاس آگے ہی روپیہ کونسا زیادہ ہے ہم اس پر مزید اپنے مقدمات کا بوجھ کیوں ڈالیں۔کیا یہ اتنی موٹی بات نہیں جو ی تمہاری سمجھ میں آسکے۔تو تمہیں چاہئے کہ تم مخلص اور کمزور طبع انسانوں میں فرق کرو۔میں انہیں منافق نہیں کہتا۔بعض کمزور طبائع ہوتی ہیں ان کا دل ایسا کمزور ہوتا ہے کہ وہ نتائج کی برداشت نہیں کر سکتے۔ہوتے مومن ہی ہیں مگر دل کی کمزوری کی وجہ سے نتائج برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔یہی حال