خطبات محمود (جلد 18) — Page 151
خطبات محمود ۱۵۱ سال ۱۹۳۷ء ہم دشمن سے ضرور لڑیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں اب کسی نے لڑنا نہیں اور جب لڑائی ضروری ہو جائے تو کہہ دیتے ہیں صلح رکھنی چاہئے ، آپس کے تعلقات کو خراب کر لینے سے کیا فائدہ۔آخر کیا تم خیال کرتے ہو کہ ایک شخص کے ہاتھ پر تم بیعت کرتے ہو اور پھر یہ سمجھتے ہو کہ اس کی کے دل میں سلسلہ کے متعلق اتنی بھی غیرت نہیں جتنی تمہارے دلوں میں ہے۔حالانکہ اس نے اپنی غیرت کا عملی ثبوت بھی تمہارے سامنے پیش کیا ہوا ہے۔میں ہمیشہ اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ جماعت کا بیشتر حصہ بچے مخلصوں اور باتیں بنانے والوں میں فرق کیوں نہیں کرتا۔گزشتہ دو سال میں تم نے دیکھ لیا ہے کہ وہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کر نیوالے تھے جب اُن پر مقدمے ہوئے تو انہوں نے کیسی بُزدلی اور دوں ہمتی دکھائی۔جماعت کا ان مقدموں اور سیاسی شرارتوں کے مقابلہ کیلئے تمہیں چالیس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔حالانکہ ان لوگوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ ہماری حرکات سے اگر سلسلہ کیلئے مشکلات پیش آئیں گی اور سلسلہ کا روپیہ خرچ ہو گا تو اس کا کون ذمہ وار ہوگا۔اور پھر جب بعض حالات میں مقدمات چلائے گئے تو کیوں یہ لوگ گھبرا گھبرا کر اچھے سے اچھے وکیلوں اور اچھے سے اچھے سامانوں کے طالب ہوئے۔جن لوگوں کے افعال کی وجہ سے یہ صورتِ حالات پیدا ہوئی تھی انہیں چاہئے تھا کہ یا وہ خود مقدمہ چلاتے یا کانگرس والوں کی طرح ڈیفنس پیش کرنے سے انکار کر دیتے اور قید ہو جاتے۔مگر انہیں شرم نہیں آتی کہ کہتے تو وہ یہ تھے کہ ہم سلسلہ کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے مگر جماعت کا پندرہ ہیں ہزار روپیہ انہوں نے مقدمات پر خرچ کرا دیا اور پھر بھی وہ مخلص کے مخلص بنے ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کے کھانوں اور سفر خرچ کے بل جا کر دیکھو تو تم کو تعجب ہوگا کہ یہ کیا ہوا ہے۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ دشمن جھوٹ بول رہا تھا اور سلسلہ کو بدنام کرنے کیلئے جھوٹے مقدمات کر رہا تھا۔ہم ان کی مدد کیلئے مجبور تھے گوہم جانتے تھے کہ بعض جگہ دشمن کو موقع دینے والے خود ہمارے اپنے آدمی تھے۔اگر ہمارے آدمی میری تلقین کے مطابق صبر سے کام لیتے اور گالی کا جواب نہ دیتے تو اتنا فتنہ نہ بڑھتا۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے لڑائی کرنا دین کیلئے ضروری ہی سمجھا تھا تو ان کا فرض تھا کہ یا تو مقدمہ کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے اور کہتے کہ ہماری جماعت کی مالی حالت کمزور ہے ، ہم اس پر اپنا بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اور یا جواب دعوئی سے دستبردار ہو کر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتے۔مگر یہ کی جماعت کا تمیں چالیس ہزار روپیہ خرچ کر ا دینے کے باوجود مخلص کے مخلص بنے پھرتے ہیں ( میں سہ