خطبات محمود (جلد 18) — Page 126
خطبات محمود ۱۲۶ سال ۱۹۳۷ء ہے۔یا کم سے کم ایک آسان طریق اس کو مجرم بنانے کا یہ ہوتا ہے کہ اُس کے دعوے کو ہی اُس کے سامنے پیش کر دیا جائے تو وہ شرمندہ ہو جاتا ہے۔اب اسی سے پوچھنا چاہئے کہ فلاں موقع پر تو تم نے کہا تھا کہ کیا میں پاگل تھا یا بے بس تھا کہ ایسا کرتا اور اب کہتے ہو کہ بے بس تھا۔ان دونوں میں سے کونسا دعویٰ صحیح تھا ؟ اگر یہ فقرہ درست ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جب تک کہ اس کا علم اور عقل تسلی نہیں پائیں گے تو پھر یہ درست نہیں کہ وہ بعض افعال کے ارتکاب میں بے بس تھا۔کیونکہ بے بس ہونے کے یہ معنے ہیں کہ یہ جانتا تو تھا لیکن رُک نہیں سکتا تھا۔پس دونوں چیزیں ایک وقت میں جمع نہیں ہوسکتیں۔جو شخص ایمان اور عقل کے خلاف نہیں کرتا وہ بے بس نہیں ہو جاتا اور جو بے بس ہو جاتا ہے وہ اپنے ایمان اور عقل کے خلاف باتیں بھی کر لیتا ہے۔جو کہتا ہے کہ میں بے بس تھا وہ اقرار کرتا ہے کہ میں کبھی علم ، ایمان اور عقل کے خلاف بھی باتیں کر سکتا ہوں کیونکہ مجبور ہو جاتا ہوں۔اور جو یہ کہتا ہے کہ وہ اپنی عقل اور ایمان کے خلاف بات نہیں کر سکتا اُس کا اپنے آپ کو بے بس کہنا جھوٹ ہوتا ہے۔کیونکہ جب وہ اپنی مرضی کے خلاف کام نہ کرنے پر قادر ہے تو بے بس کس طرح ہوسکتا ہے۔اصل میں یہ دو بہانے ہیں جن سے انسان اپنے جرم کو چھپاتا ہے۔جب یہ تی خدا کے ، اپنے ملک کے اور اپنے نفس کے فرائض کو ادا نہیں کرتا لیکن ساتھ ہی سمجھتا ہے کہ کوئی میرا جرم ثابت نہیں کرسکتا تو کہہ دیتا ہے کیا میں پاگل تھا کہ یہ کام کرتا اور جب وہ سمجھتا ہے کہ میرا جرم نا قابل انکار حد تک ثابت ہے اور میں بہانوں سے اسے چُھپا نہیں سکتا تو کہتا ہے کہ میں کیا کروں، میں بے بس تھا۔غرض دونوں عذر مختلف جگہوں پر استعمال کئے جاتے ہیں۔جب جرم ثابت ہو تو بے بس ہونے کا اور جب ثبوت مشکل ہو تو کہتا تھا کہ میں پاگل تھا کہ ایسا کرتا۔ان دونوں غذروں کی وجہ سے ہم سستی اور غفلت میں روز بروز بڑھتے جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا جس میں کئی عیب تھے۔اس نے آپ سے درخواست کی اور نجات کا طریق دریافت کیا۔اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ کچھ تم کوشش کرو کچھ میں دعا کرتا ہوں۔تم یہ کرو کہ اپنے پانچ عیوب میں سے ایک کو چھوڑ دو۔اور میں دعا کروں گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تمہیں باقیوں کے چھوڑنے کی بھی توفیق دے دے گا۔اُس نے دریافت کیا کہ وہ کس کو چھوڑ دے؟ صلى الله حضور ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹ نہ بولو اور ساتھ ہی اسے فرمایا کہ وہ حضور ﷺ سے ملتا ہے۔اُس شخص نے