خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 127

خطبات محمود ۱۲۷ سال ۱۹۳۷ء وعدہ کیا اور چلا گیا۔کچھ عرصہ بعد جب اُس کے دل میں ایک عیب کے ارتکاب کی خواہش پیدا ہوئی تو تو جھٹ اسے خیال آیا کہ رسول کریم ﷺ نے یا کسی دوست نے پوچھا تو کیا جواب دوں گا۔لہذا اُس کا ارادہ ترک کر دیا۔کچھ وقفہ کے بعد دوسرے عیب کا خیال پیدا ہوا۔پھر جھٹ یہ امر سامنے آ گیا کہ اگر ی رسول کریم ﷺ یا کسی دوست نے دریافت کیا تو کیا جواب دوں گا کیونکہ جھوٹ تو بولنا نہیں۔بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ اس عیب کا ارتکاب نہیں کروں گا۔حتی کہ چاروں عیبوں کے کرنے کا باری باری خیال پیدا ہوا اور اسی خیال کے آنے سے کہ اگر رسول کریم ﷺ نے یا کسی دوست نے پوچھا تو کیا جواب دوں گا ، سب کا ارادہ ترک کر دیا اور اُسی دن وہ اِن عیبوں سے محفوظ رہا۔اسی طرح کئی دن گزر گئے اور ہر روز اُس کی ان عیوب سے بچنے کی طاقت بڑھتی گئی اور جب رسول کریم ﷺ نے اس کو بلایا تو اس نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ يَارَسُولَ اللَّهِ اس خیال سے کہ کسی کے دریافت کرنے پر اپنے عیب کا اقرار کرتے ہوئے سچ بولنے میں شرمندگی ہوگی میں نے اس وقت تک یہ عیب نہیں کئے اور اب میں پانچوں عیبوں کی کے چھوڑنے پر قادر ہوں لے غرض جھوٹ کے چھوڑنے سے یہ طاقت اس کے اندر پیدا ہوگئی۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے مُجرم کو چھپاتا ہے یا دوسرے کو مرعوب کرنا چاہتا ہے تو جیسے عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب ان سے کسی ایسے امر کے متعلق دریافت کیا جائے جس میں ان کی کا قصور ہو تو جھٹ شور مچادیتی ہیں، رونے لگ جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان پر یونہی بدظنی کی جاتی ہے۔یہی حالت چالاک مردوں کی بھی ہوتی ہے۔وہ اس بات کی طرف آتے ہی نہیں۔یہ طریق ایسے لوگوں سے ہی ظاہر ہوتا ہے جو دل میں سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بُرا ہے لیکن سچ بولنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔وہ ج ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں تا کہ ان سے اس بارہ میں دریافت نہ کیا جائے لیکن جب اُن کو اس بات کی کے بتلانے پر مجبور کیا جائے تو آخر وہ جھوٹ بول دیتے ہیں۔بچوں کا بھی قاعدہ ہے کہ جب ان سے کوئی بات دریافت کی جائے تو جھٹ وہ اور سوال شروع کر دیتے ہیں۔مثلاً اگر یہ دریافت کیا جائے کہ وہ کیوں مٹی میں کھیلتے رہے؟ تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ بُھوک لگی ہے۔گویا وہ چاہتے ہیں کہ بات کو دوسری طرف پلٹا کر جرم پر پردہ ڈال دیں۔جب کوئی انسان یہ ارادہ کرے کہ اُس نے ہمت سے کام کرنا ہے اور اپنے فرائض کو سمجھنا ہے تو ایسے انسان کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیونکہ جو کام کرتا ہے اُسے بہانوں کی ضرورت نہیں