خطبات محمود (جلد 18) — Page 658
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء واقعہ میں گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوں یا اگر چاہوں تو ان سے بچ سکتا ہوں۔پس چونکہ یہ فیصلہ خدا تعالیٰ نے کرنا ہے اس لئے گناہوں پر یہ دلیر نہیں ہو سکتا۔غرض جو شخص گنا ہوں سے بچنے کی بچے طور پر کوشش کرتا ہے اور اسی کوشش میں مرجاتا ہے وہ یقیناً نیک لکھا جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے وہ لوگ جو جرمن، انگلستان اور فرانس کی لڑائی میں مارے گئے۔گو انہوں نے فتح نہیں دیکھی مگر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ فتح انہی لوگوں کے ہاتھ سے ہوئی ہے جو زندہ رہے ہیں۔بلکہ فتح کا سہرا جس طرح کی زندوں کے سر رہتا ہے اسی طرح ان لوگوں کے سر بھی رہتا ہے جو جنگ کی حالت میں مارے گئے۔چنانچہ قوموں نے اس کا عملی رنگ میں اعتراف کرتے ہوئے جنگ عظیم کے بعد قومی فتح کا نشان یہی قرار دیا کہ جنگ میں مرنے والے ایک مُردہ کو ایک خاص جگہ گاڑ دیا گیا۔جہاں سال میں ایک دفعہ وہ بھاری میلہ کرتے ہیں اور باشادہ تک وہاں جاتا ہے۔اسی طرح ان قوموں نے تسلیم کیا ہے کہ ہماری فتح ان کی مرنے والوں کے ذریعہ ہوئی ہے جنہوں نے اپنی جانیں قوم اور ملک کیلئے قربان کر دیں۔اسی طرح جوی س شیطان سے لڑتا ہوا مارا جاتا ہے، خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کی حیثیت شکست خوردہ انسان کی نہیں ہے ہوتی بلکہ اُس کی حیثیت اُس شخص کی سی ہوتی ہے جولڑائی میں مارا جاتا ہے۔اس کا ثبوت احادیث سے بھی ملتا ہے۔چنانچہ رسولکر یم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بہت سے گناہ کئے مگر آخر اس کے دل میں تو بہ کا خیال پیدا ہوا۔اُس زمانہ میں رائج خیال یہی تھا کہ تو بہ بغیر علماء کی اجازت کے قبول نہیں ہوسکتی۔یہ خیال یہودیوں اور عیسائیوں میں اب تک پایا جاتا ہے بلکہ عیسائیوں میں تو یہ خیال اتنا غالب ہے کہ ان کے نزدیک پادری کے سامنے اقرار جرم کئے بغیر انسان بخشا ہی نہیں جاتا۔ہماری طرح ان میں یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے سامنے روئیں اور معافی طلب کریں۔بلکہ ان میں یہ ضروری تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان پادری کے سامنے تو بہ کرے۔اسی قومی رواج کے مطابق وہ مختلف علماء کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں نے یہ یہ گناہ کئے ہیں، اب میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ جب وہ کسی عالم کو اپنا واقعہ سنا تا تو وہ کہتا کہ تیری تو بہ قبول نہیں ہوسکتی۔اگر تیرے جیسے انسان کی توبہ قبول کر لی جائے تو دنیا میں گناہ کی انتہا نہ رہے۔وہ چونکہ علاوہ اور گناہوں کے قتل کا بھی مرتکب رہ چکا تھا اور بڑا بھاری قاتل تھا اس لئے وہ کہتا کہ اگر میری توبہ قبول نہیں ہوسکتی تو میں تم کو بھی زندہ نہیں رہنے دیتا۔چنانچہ وہ اسے قتل کر دیتا۔پھر وہ دوسرے کے پاس گیا، پھر تیسرے کے پاس گیا ، پھر چوتھے کے پاس گیا مگر سب اُس کی ج