خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 56

خطبات محمود ۵۶ سال ۱۹۳۷ء ہو تو لڑائی ہوتی ہے اس لئے تم اسے کہ سکتے ہو کہ بیچ یا جھوٹ بولنا تمہارا اپنا فعل ہے اس لئے تم خود جان سکتے ہو کہ تم جھوٹ بولتے ہو یا سچ ، میں اس کے متعلق کوئی رائے ظاہر نہیں کر سکتا اور اس طرح تم اس مرحلہ سے صاف نکل سکتے ہو بغیر جھوٹ بولنے اور بغیر فساد کرانے کے۔پس سچ کے معنے یہ ہیں کہ جو کہو ٹھیک کہو اور جس چیز کے ظاہر کرنے کی تمہیں شریعت یا مصلحت اجازت نہیں دیتی اس کے متعلق تم صاف کہہ سکتے ہو کہ اس کے متعلق تمہیں پوچھنے کا کوئی حق نہیں۔بعض جگہ انکار بھی انسان کو جھوٹ بلو ادیتا ہے یا مصیبت میں پھنسا دیتا ہے۔بچے کھیلتے ہیں اور چھپتے ہیں۔تلاش کرنے والا کسی سے پوچھتا ہے کہ کہاں چھپے ہوئے ہیں؟ اس کے جواب کے دو ہی طریق ہیں کہ وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نہیں بتا تا۔پھر وہ پوچھتا ہے کہ فلاں جگہ ہیں۔وہ کہتا ہے کہ نہیں۔پھر وہ پوچھتا ہے کہ اچھا فلاں جگہ ہیں؟ پھر بھی وہ کہہ دیتا ہے نہیں۔پھر وہ تیسری جگہ کے متعلق پوچھتا ہے کہ وہاں ہیں ؟ وہ کہ دیتا ہے نہیں۔پھر وہ ایک جگہ کے متعلق چھتا ہے کہ کیا وہ وہاں ہیں ؟ اور وہ خاموش ہو جاتا ہے تو پوچھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ بس وہ اسی جگہ ہوں گے۔پس نہ کہہ کر بھی تم ہاں کر سکتے ہو۔ایک شخص کی تین جیبیں ہیں۔ایک چیز کے متعلق وہ کہہ دیتا ہے کہ اس جیب میں نہیں۔پھر دوسری کے متعلق کہتا ہے کہ اس میں بھی نہیں۔اس پر بھی اگر دوسرا نہیں سمجھتا کہ وہ تیسری جیب میں ہے تو وہ بڑا ہی بیوقوف ہے۔ایک قصہ مشہور ہے کہ دو بیوقوف کہیں جمع ہو گئے۔ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر تم یہ بتا دو کہ میری جھولی میں کیا ہے تو میں ایک انڈا تم کو دے دوں گا۔اور اگر یہ بتا دو کہ کتنے ہیں تو دس کے دس ہی تمہیں دے دوں گا۔آگے سننے والا بھی ویسا ہی تھا۔اُس نے کہا کہ کوئی اتا پتا بتاؤ تو میں کچھ سمجھ سکتا ہوں۔یوں میں کوئی عالم الغیب نہیں ہوں کہ سمجھ سکوں۔اس پر پہلے نے کہا کہ کچھ زرد زرد اور کچھ کچ سفید سفید چیز اس کے اندر ہے۔اس کا مطلب انڈے کی زردی اور سفیدی سے تھا مگر دوسرے نے جھٹ کی جواب دیا کہ کچھ گا جریں اور کچھ مولیاں ہوں گی۔تو بسا اوقات انسان انکار بھی نہیں کرتا مگر بتا بھی جاتا ج ہے۔گویا زیادہ نہیں مل کر ایک ہاں بن جاتی ہے۔پس تم موقع پر ”نہیں“ اور ”ہاں“ دونوں کے کہنے سے انکار کر سکتے ہو۔کیونکہ جس کو خدا تعالیٰ نے پوچھنے کا حق نہیں دیا تمہارا حق ہے کہ اس کے سوال کا جواب نہ دو لیکن اگر جواب دو تو پھر سچا ہی جواب دو۔میں نے کئی بار بتایا ہے کہ سچ کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔مگر تم اپنے نفسوں کو ٹو لو کہ کیا تم