خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 540

خطبات محمود ۵۴۰ سال ۱۹۳۷ء دس بارہ میل پیدل سفر کر لیتا ہوں اور میری عمر اس وقت ۹۸ سال کی ہے اور حافظ صاحب کی ۷۸، ۷۹ سال۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ایک اور مثال بھی مجھے یاد آ گئی۔پندرہ سولہ سال ہوئے ایک دوست بیعت کرنے کی غرض سے میرے پاس آئے اور کہا کہ میں لاہور سے پیدل آیا ہوں۔میں نے ان کی شکل وصورت سے اندازہ کر کے کہا کہ آپ کی عمر تو ساٹھ ستر سال کی ہوگی۔آپ نے بڑی ہمت کی جو اس قدر لمبا سفر پیدل کیا۔مگر وہ کہنے لگے کہ میری عمر تو ایک سو دس سال کی ہے۔میں جس اُستاد کے پاس پڑھا کرتا تھا ان کے پاس ایک دفعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ آئے تھے ( مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کو فقراء سے بہت عقیدت تھی اور وہ مسلم فقراء کے پاس بھی جایا کرتے تھے تا کہ ان سے دعا کرائیں ) اور ان کو ایک بھینس دی تھی جسے میں نہلا تا ج تھا۔تو انہوں نے اپنی عمر ایک سو دس سال یا شاید اس سے بھی زیادہ بتائی تھی۔بعد میں میں سمجھا کرتا تھا کہ وہ شاید فوت ہو چکے ہیں۔مگر کوئی ایک سال کا عرصہ ہوا ایک دوست کا خط آیا جس میں ان کے متعلق بھی لکھا تھا کہ ان کی عمر اب ۱۳۰ ،۱۳۵ سال کے لگ بھگ ہے اور وہ آپ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ ہیں۔تو ایسے استثنائی لوگ بھی ہوتے ہیں۔صحابہ میں سے حضرت انسؓ نے سب سے بڑی عمر پائی اور وفات کے وقت وہ ۱۱۰ یا ۱۲۰ سال کے تھے لے رسول کریم ﷺ ہی کی وفات کے وقت ان کی عمر ۱۷ ، ۱۸ سال تھی اور آپ کی وفات کے بعد وہ قریباً سو سال زندہ رہے۔ایسے لوگ تو تبرکات ہوتے ہیں جن کو دیکھنے کیلئے اگر دنیا کے دوسرے کنارے سے بھی آنا پڑے تو یہ مشقت کم ہے اور ایسے لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ دوسروں کو تابعیت کا فضل دینے کیلئے زندہ رکھتا ہے تا لوگ ان کی وجہ سے تابعی کہلا سکیں۔ورنہ عرب میں عمریں بالعموم ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہوتی ہیں۔رسول کریم ﷺ نے بھی اپنے زمانہ کی اوسط عمر ساٹھ سال ہی فرمائی ہے اور ساٹھ سال کی اوسط عمر بہت بڑی عمر ہے۔ہمارے ملک کی اوسط عمر گورنمنٹ کی کی مردم شماریوں کے رو سے تمیں سال نکلتی ہے۔انگلستان کی اوسط عمر ۴۸ سال ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ لمبی عمریں پاتے ہیں۔پس میں جس عمر کا ذکر کرتا ہوں وہ لمبی عمروں میں سے اوسط عمر ہے اور جس حدیث کا میں نے ذکر کیا ہے اس کا مفہوم غالبا عام عمروں میں سے اوسط عمر ہے۔کیونکہ انفرادی طور پر تو اس زمانہ میں بھی سو سال سے زیادہ عمر میں بعض لوگوں نے پائی ہیں۔اب اوسط کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ جس قوم کی کی