خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 528

خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۷ء اور گروہ میں شامل ہو جائے تو ہم اس سے کبھی بولنا منع نہیں کرتے۔غیر مبائعین میں ہی آجکل کئی ایسے لوگ ہیں جو پہلے ہماری جماعت میں تھے مگر بعد میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔لیکن ہم نے ان کے متعلق یہ اعلان نہیں کیا کہ ان سے کوئی شخص گفتگو نہ کرے۔ڈاکٹر سیدمحمد طفیل صاحب ، میاں غلام مصطفیٰ صاحب ، مولوی محمد یعقوب صاحب ایڈیٹر لائٹ یہ پہلے میری بیعت میں شامل تھے مگر پھر غیر مبائعین کی طرف چلے گئے اور ہم نے ان کے مقاطعہ کا کوئی اعلان نہیں کیا بلکہ میں خود ان میں سے بعض سے ملتا رہا ہوں۔اسی طرح اور بھی کئی آدمی ہیں جو پہلے ہمارے ساتھ تھے پھر ادھر شامل ہو گئے۔مگر ہم نے کبھی لوگوں کو ان سے ملنے سے نہیں روکا۔ہم صرف انہی سے تعلقات رکھنے ممنوع قرار دیتے ہیں جو سلسلہ کے خلاف خفیہ سازشیں کرتے ہیں۔چنانچہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے اپنے خط میں تسلیم کیا ہے کہ وہ دو سال سے خفیہ تحقیق میرے خلاف کر رہے تھے اور اس بارہ میں لوگوں سے گفتگو کیا کرتے تھے۔اگر جس دن انہیں میرے متعلق شبہ پیدا ہوا تھا اور میرے خلاف انہیں کوئی بات پہنچی تھی ، اسی دن وہ میرے پاس آتے اور کہتے کہ میرے دل میں آپ کے متعلق یہ شبہ پیدا ہو گیا ہے تو میں یقیناً انہیں جواب دیتا اور اپنی طرف سے ان کو اطمینان دلانے اور ان کے شکوک کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتا۔چنانچہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے دیانت داری سے اپنے شکوک پیش کی کر کے ان کا ازالہ کرنا چاہا اور میں ان پر ناراض نہیں ہوا۔بلکہ میں نے ٹھنڈے دل سے اُن کی بات کو سُنا اور آرام سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔اور میں سمجھتا ہوں اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو ایسے لوگ بھی میں پیش کر سکتا ہوں جو اب احمدی نہیں اور وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ انہوں نے مخفی طور پر اپنے بعض شکوک کے متعلق مجھ سے تسلی چاہی اور میں نے نہایت خندہ پیشانی سے ان کی باتوں کا جواب دیا۔لیکن جو شخص پہلے مجھے مجرم قرار دیتا ہے اور پھر مجھ سے تسلی چاہتا ہے اُس کی تسلی کرنے کے کوئی معنے نہیں۔جس نے فیصلہ کر لیا کہ میں مجرم ہوں ، جس نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے میں فلاں فلاں عیوب پائے جاتے ہیں اُس کی تسلی کرنی بالکل بے معنی بات ہے۔پس مجھے ان کے طریق پر اعتراض ہے۔ورنہ وسو سے بعض کمزور انسانوں کے قلوب میں پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔مجھے جس بات پر اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے خفیہ کارروائی کی اور خفیہ طور کی پر لوگوں کو بہکایا۔چنانچہ اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ ادھر جماعت سے وہ نکلے اُدھر