خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 529

خطبات محمود ۵۲۹ سال ۱۹۳۷ء حکیم عبدالعزیز صاحب نے کہہ دیا کہ میں جماعت سے الگ ہوتا ہوں اور وہ جھٹ مصری صاحب کے ساتھ شامل ہو گئے۔پھر مصری صاحب نے بھی اپنے خط میں یہی لکھا تھا کہ فخر الدین کو اگر آپ نے معاف نہ کیا تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔گویا میری وجہ سے وہ جماعت سے الگ نہیں ہوئے بلکہ اس کی لئے ہوئے کہ فخر الدین کو کیوں معاف نہیں کیا گیا۔پس صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ ایک پارٹی تھی جو اندر ہی اندر خفیہ منصوبے کر رہی تھی۔چنانچہ ابتدائی رپورٹیں جو میرے پاس پہنچیں ان میں میاں فخر الدین صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب ،مصری حکیم عبدالعزیز صاحب اور میاں مصباح الدین صاحب ان چاروں کے نام علاوہ بعض دوسرے ناموں کے آتے رہے ہیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کیوں نہ فرض کر لیا تو جائے کہ رپورٹ دینے والوں نے جھوٹ بولا۔یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ شروع سے ایک پارٹی تھی۔تو ی اس کا جواب یہ ہے کہ رپورٹ دینے والوں کو کیا پتہ تھا کہ کسی وقت یہ چاروں علیحدہ بھی ہو جائیں گے۔انہوں نے ایک رپورٹ کی اور وقوعہ نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا بلکہ سچ کہا ورنہ وجہ کیا ہے کہ ادھر میاں فخر الدین صاحب ملتانی جماعت سے نکالے جاتے ہیں اور ادھر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری بھی نکل جاتے ہیں۔وہ علیحدہ ہوتے ہیں تو میاں عبد العزیز حکیم اور میاں عبد الرب بھی فتح بیعت کا اعلان کر دیتے ہیں اور میاں مصباح الدین صاحب سے بھی ایسی حرکات سرزد ہوتی ہیں کہ انہیں جماعت کی سے الگ کرنا پڑتا ہے۔یہ باتیں ثبوت ہیں اس بات کا کہ ان میں خفیہ کاروائیاں ہوتی رہی تھیں اور یہی ہے تقویٰ کے خلاف فعل ہے۔اگر پہلے دن ہی جب انہوں نے میرے متعلق بات کوئی بات سنی تھی ، میرے پاس آتے اور مجھ سے کہتے کہ میں نے فلاں بات سُنی ہے مجھے اس کے متعلق سمجھایا جائے تو جس رنگ میں بھی ممکن ہوتا میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا اور کوتسلی دینا خدا کا کام ہے میرا نہیں مگر اپنی طرف سے میں انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا۔لیکن انہوں نے تقویٰ کے خلاف طریق اختیار کیا اور پھر ہر قدم جوی انہوں نے اُٹھایا وہ تقویٰ کے خلاف اُٹھایا۔چنانچہ جب انہوں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھ پر جماعت کی طرف سے کئی قسم کے مظالم کئے جارہے ہیں تو میں نے اس کی تحقیق کیلئے ایک کمیشن مقرر کیا جس کے ممبر مرزا عبد الحق صاحب اور میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر تھے۔مرزا عبدالحق صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے گہرے دوست تھے۔مگر انہوں نے مرزا عبدالحق صاحب کے متعلق کہہ دیا کہ یہ خلیفہ کے اپنے آدمی ہیں اور انہیں چونکہ جماعت کی طرف سے مقدمات ملتے ہیں اس لئے فیصلہ