خطبات محمود (جلد 18) — Page 512
خطبات محمود ۵۱۲ سال ۱۹۳۷ء کر دے۔اس لئے یا تو وہ ایسے شخص کوتوبہ کی توفیق دے دیتا ہے یا انسان اگر کبھی غفلت سے تقویٰ کا بیج اپنے دل سے بالکل ضائع کر دے تو اُس وقت اُسے سزا دیتا ہے۔مگر جب تک کسی انسان کے دل میں تقومی قائم رہتا ہے اُسے سزا اس رنگ میں کبھی نہیں ملتی جو اُ سے تباہ کر دے اور ایسے شخص کی نجات نہ صرف ممکن بلکہ سہل الحصول ہوتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کا اکلوتا بچہ ہو اور اس کی ماں بڑھیا ہو۔یا بڑھیا تو نہ ہو مگر اس کا خاوند مر چکا ہو۔ایسی ماں اور ایسے بچہ میں بھی کبھی کبھی لڑائی ہو جاتی ہے۔اختلاف بے شک بُری ھے ہے لیکن کبھی نہ کبھی عزیز ترین وجود وں میں بھی اور ایسے ماں بچے میں بھی اختلاف ہو جاتا ہے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔اس وقت اس بچہ کی ماں اس پر ناراض ہو جاتی ہے۔لیکن ماں کی ناراضگی ایسی ہی ہوتی ہے کہ اُدھر وہ خفا ہو کر منہ ایک طرف کر لیتی ہے اور ادھر کنکھیوں سے اُسے دیکھتی بھی جاتی ہے تا بچہ میں اگر ذرا سی بھی تبدیلی یا رغبت پیدا ہو تو وہ اسے کی دوڑ کر گود میں اُٹھا لے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جب تین صحابہ سے ایک غلطی ہوئی اور وہ با وجود جنگ میں شامل ہونے کی طاقت رکھنے کے شامل نہ ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ سزا دی کہ ان کے بیوی بچے ان سے الگ کر لئے۔ان سے بولنا منع کر دیا ، ان سے لین دین کے تعلقات رکھنے ممنوع قرار ے دیئے اور ان سے تمام مسلمانوں کو ہر قسم کا معاملہ کرنے سے روک دیا۔تو انہی تین شخصوں میں سے ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جاتا آپ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتا اور پھر دیکھا کہ جواب میں آپ کے ہونٹ ہلتے ہیں یا نہیں۔وہ چونکہ یہ جانتا تھا کہ رسول کریم ہے نے جب ان سے بولنا منع کیا ہوا ہے تو آپ اونچی آواز سے جواب نہیں دیں گے۔اس لئے وہ سلام کہہ کر آپ کے کی ہونٹوں کی طرف دیکھتا اور خیال کرتا کہ شاید آپ منہ میں میرے سلام کا جواب دے دیں۔مگر جب دیکھتا کہ آپ کے ہونٹ نہیں ہلے تو گھبرا کر مسجد سے باہر آجاتا۔اور پھر دوبارہ جا کر اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور خیال کرتا کہ شاید پہلی دفعہ رسول کریم ﷺ نے میری آواز نہیں سنی اور سلام کہہ کر پھر غور سے دیکھتا کہ آپ کے ہونٹ جواب میں ہلے ہیں یا نہیں۔مگر جب دیکھتا کہ نہیں ہلے تو پھر چلا جاتا اور خیال کرتا کہ دونوں دفعہ میری آنکھیں چوک گئی ہیں اور پھر تیسری دفعہ جا کر اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتا اور آپ کے ہونٹوں کو خوب غور سے دیکھتا رہتا کہ ان میں حرکت پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔وہ صحابی کہتے ہیں کہ بار بار اس کی