خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 513

خطبات محمود ۵۱۳ سال ۱۹۳۷ء ނ طرح کرنے پر بھی رسول کریم ہے کے ہونٹوں میں مجھے کوئی حرکت نظر نہ آتی۔یہ وہ شخص تھا جو خطا کاری تھا ، جو گنہ گار تھا اور اسے اپنے ایک قصور کی وجہ سے سزا ملی تھی مگر اس کے دل سے محمد حملے کی محبت نہیں گئی تھی۔وہ چاہتا تھا کہ خدا میرا قصور معاف کرے اور پھر مجھے اپنے دامنِ رحمت میں لے لے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سلام کا جواب نہیں دیتے تھے۔کیونکہ جو حکم آپ نے تمام مسلمانوں کو دیا تھا آپ کے لئے بھی اس کی تعمیل ضروری تھی۔مگر وہ روایت کرتے ہیں کہ مجلس میں جب میرا کسی دوسری طرف دھیان ہوتا اور یکدم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرنظر پڑتی تو مجھے دکھائی دیتا کہ آپ کنکھیوں سے میری طرف دیکھ رہے ہیں۔اب دیکھو ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم کی جو آپ نے تمام مسلمانوں کو دیا خود بھی تعمیل کرتے اور سلام کا جواب تک نہیں دیتے۔مگر دوسری طرف اسے کنکھیوں۔دیکھتے بھی جاتے ہیں۔سے یہ معلوم کرنے کیلئے کہ تو بہ اور حقیقی ندامت کے آثار پوری طرح اس میں ظاہر ہوئے ہیں یا نہیں ہوئے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جو محبت رکھتا ہے، اس کا بھی رسول کریم ﷺ نے ایک مثال میں ذکر فرمایا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم ﷺ کی محبت بھی ایک بڑی چیز تھی مگر خدا کی محبت تو بہت ہی بڑی چیز ہے۔اور کسی انسان کی محبت خواہ وہ محمد اللہ ہی کیوں نہ ہوں ، اس حد تک کہاں پہنچ سکتی ہے جس حد تک خدا تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے۔وہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی " ہے اور اس سے کسی کو کوئی مشارکت نہیں ، خواہ وہ نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو۔پس رسول کریم ﷺ کی محبت کا جب یہ نمونہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کا کیا کہنا۔وہ جس محبت اور پیار سے بندے کی طرف دیکھتا ہے اُس کا نقشہ ہم نہیں کھینچ سکتے۔ہم جب اُس کی جنت کا نقشہ نہیں کھینچ سکتے تو اُس کی محبت کا نقشہ کس طرح کھینچ سکتے ہیں۔بندوں کے متعلق ہمارا یہ حال ہے کہ ہم ان کے اعمال کی کیفیت بیان کر سکتے ہیں ، ان کے قلوب کی کیفیت بیان کی نہیں کر سکتے۔پھر خدا تعالیٰ جس کے افعال کو بھی ہم نہیں سمجھ سکتے ، اُس کی کیفیت محبت کو ہم کہاں سمجھ سکتے ہیں۔مگر پھر بھی مثالوں سے حقیقت قریب کی جاسکتی ہے اور رسول کریم ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو کی مثالوں سے ہی سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔بدر کی جنگ میں جب دشمن شکست کھا چکا۔جب مسلمانوں کی تلوار میں کفار کی گردنیں اڑا رہی تھیں۔جب بڑے بڑے جری سپاہی اپنی سواریوں پر بیٹھے پور۔زور سے انہیں کوڑے مار کر بھگائے لے جا رہے تھے تا جتنی جلد وہ مسلمانوں کی فوج سے دور پہنچ سکتے