خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 482

خطبات محمود ۴۸۲ سال ۱۹۳۷ء مگر کیوں ہمارا ذرہ ذرہ آپ پر فدا ہے اور کیوں ہم آپ پر اپنی جانیں قربان کرنا انتہائی سعادت اور خوش بختی سمجھتے ہیں۔اسی لئے کہ وہ لوگوں کو آدمی نظر آتے ہیں مگر ہمیں اللہ کے آدمی نظر آتے ہیں۔آپ کے آدمی ہونے سے تو ہمیں بھی انکار نہیں۔آپ خود فرماتے ہیں کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ سے میں تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں۔مگر اس پر مزید بات یہ ہے کہ آپ ہمیں ” اللہ کے آدمی دکھائی دیتے ہیں۔لوگ ہم پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ تم ایک آدمی کے پیچھے چل رہے ہو مگر یہ درست نہیں۔بھلا ہم کوئی ایسے پاگل ہیں کہ کسی آدمی کے پیچھے چلیں۔ہم تو اللہ کے بندے کے پیچھے چل رہے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہمارا محبوب ہے اس لئے اس محبوب میں جو بھی جذب ہو گیا وہ خالی بندہ نہ رہا بلکہ اللہ کا بندہ بن گیا اور اس لئے وہ ہمارا بھی محبوب اور معشوق قرار پا گیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے طواف کیلئے جاتے ہیں۔راستہ میں کفار کا لشکر آپ کو اور صحابہ کو روک لیتا ہے۔صنادید عرب ایک وفد لے کر آپ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ کعبہ کا طواف کریں۔اس سے ہمارے پر سٹیج PRESTIGE) میں فرق آتا ہے۔اس پر صلح کی گفتگو شروع ہوگئی اور گفتگو ہوتے ہوتے نماز کا وقت آ گیا۔رسول کریم ﷺ اٹھتے ہیں اور وضو کرتے ہیں مگر جب منہ میں پانی ڈال کر کلی پھینکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے کچھ اور بندے جو اپنی خوبیوں اور طاقتوں کے ذریعہ یہ ثابت کر چکے تھے کہ وہ دنیا کے عمود اور اس کی حفاظت کا ذریعہ ہیں، دیوانہ وار آگے بڑھتے ہیں اور وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔کوئی اس پانی کو ہاتھوں میں مل لیتا ہے، کوئی منہ کو ملنے لگ جاتا ہے، کوئی سینہ پر مل لیتا ہے، کوئی پیٹھ پر ملنے لگ جاتا ہے۔" یہ دیکھ کر کفار کی نظر حیرت سے پھٹ جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں دیکھو یہ کتنے پاگل ہیں۔یہ جو کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی ہدایت کیلئے کھڑے کئے گئے ہیں، ہم دنیا کی اصلاح کیلئے قائم کئے گئے ہیں ایک انسان کی تھوک کیلئے مرد ہے ہیں کون ہے جو انہیں مہذب کہہ سکے۔بے شک ان کی نگاہ میں وہ تھوک تھا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ای تھوک ہی تھا مگر فرق یہ تھا کہ وہ کفار محمد ﷺ کی نسبت یہ سمجھتے تھے کہ یہ محمد ( ﷺ ) کا تھوک ہے اور صحابہ یہ سمجھ کر اُس تھوک کو اپنے ہاتھوں اور اپنے مونہوں پر ملتے تھے کہ یہ خدا کے بندے کا تھوک ہے۔کوئی کہے خدا کے بندے کا تھوک بھی تھوک ہی ہے۔مگر یہ بالکل جھوٹ ہے۔کیا مکھی کی قے اور شہد کی مکھی کی قے ایک ہی جیسی ہوتی ہے؟ کیا تم ایک مکھی کی قے اپنے کپڑوں سے دھوتے نہیں اور کیا دوسری مکھی کی قے۔