خطبات محمود (جلد 18) — Page 464
خطبات محمود ۴۶۴ سال ۱۹۳۷ء آجکل محفوظ ہونے کی وجہ سے اسے اپنا سمجھتے ہیں۔اس لئے اس کی قربانی بھی دوبھر معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح پہلے زمانوں میں لوگ سمجھتے تھے کہ اگر آج نہ مرے تو کل مر جائیں گے معلوم نہیں کس وقت ڈاکوؤں کے ہاتھ سے ہی موت آجائے یا حکوت ہی مذہبی اختلاف کی وجہ سے پھانسی پر لٹکا دے یا سنگسار کرا دے یا کوئی دشمن ہی کسی وقت قتل کر دے۔وہ یقین رکھتے تھے کہ ہماری زندگی آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں اس لئے جو اُن میں سے نیک ہوتے تھے کہتے تھے کہ کیوں نہ اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا جائے مگر ان اب چونکہ حکومت پُر امن ہے کسی کو پھانسی بھی دیا جائے تو قانون کے رُو سے دیا جاتا ہے اور یوں بھی قتل کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ جانیں ہماری ہیں اور ان کے د۔میں دریغ ہوتا ہے۔پہلے زمانہ میں یہ خیال نہیں ہو سکتا تھا کہ ہماری جانیں ہماری اپنی ہیں۔بلکہ یہی خیال ہوتا تھا کہ ہماری نہیں ہیں آج نہیں تو کل کوئی لے لے گا چلو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہی دے دیں اور اس خطرہ کی حالت کا دل پر ایسا نقش ہوتا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینا مشکل نہیں معلوم ہوتا تھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں وطن چھوڑ دینے سے بھی دریغ نہیں ہوتا تھا۔کیونکہ ذرا سی بات پر ناراض ہو کر بادشاہ لوگوں کو وطن سے نکال دیتے تھے۔اس لئے لوگ کسی ملک کو اپنا وطن نہیں سمجھتے تھے۔یہودیوں پر یورپین حکومتیں اس لئے ناراض رہتی ہیں کہ وہ ان کے ملک کو اپنا وطن سمجھتے ہی نہیں تھے۔حالانکہ ان میں یہ ذہنیت پیدا کرنے والی یہی حکومتیں ہیں جو ان پر ناراض ہوتی ہیں۔صدیوں سے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا چلا آ رہا ہے کہ انہوں نے اگر روس میں جائدادیں خرید کیں ، مکانات کی بنوائے اور وہاں آباد ہوئے تو کچھ عرصہ بعد بلا کسی سبب کے حکومت نے حکم دے دیا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔وہ وہاں سے نکل کر جرمنی میں گئے اور کچھ عرصہ کے بعد وہاں بھی وہی حال ہوا۔تیسرے ملک میں گئے تو وہاں بھی یہی سلوک ہوا۔اس وجہ سے قدرتی طور پر انہوں نے کسی ملک کو اپنا وطن نہیں سمجھا۔مغربی ممالک میں سے صرف امریکہ اور انگلستان ہی دو ایسے ملک ہیں جہاں سے وہ نکالے نہیں گئے باقی قریباً ہر جگہ سے ان کو نکال دیا جاتا رہا ہے اور اس وجہ سے وہ کسی ملک کو اپنا وطن سمجھتے ہی نہیں۔جسے وطن سے نکلنے کی عادت ہو وہ کسی ملک کو وطن کیسے محسوس کرے گا۔ایک انگریز انگلستان کو اور روسی روس کو اپنا ملک سمجھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے بھی اور کی اس کی نسلوں نے بھی وہیں رہنا ہے۔مگر جو جانتا ہے کہ میں نے یہاں رہنا نہیں، اگر میں نہیں تو میری