خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 441

خطبات محمود ۴۴۱ سال ۱۹۳۷ء ( اس موقع پر حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا کسی دوست کے پاس ٹارچ ہے مگر ٹارچ نہ ملی۔اس کے بعد فرمایا )۔ان آیات میں در حقیقت اللہ تعالیٰ کے نور کو تین چیزوں میں محصور قرار دیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی نے فرمایا ہے کہ کمال نور ہمیشہ تین ذرائع سے ہوتا ہے۔ایک مشکوۃ سے ایک مصباح سے اور ایک زجاجہ سے۔یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے دی اور بتایا کہ ہمارا نور جو دنیا میں کامل طور پر ظاہر ہوا اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک طاقچہ میں ایک بنی ہو اور بتی پر گلوب یا چمنی ہو اور وہ گلوب اتنا روشن ہو کہ گویا وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ہمارے ملک میں چونکہ عام طور پر اس قسم کے لیمپوں کا رواج نہیں اس لئے میں نے چاہا تھا کہ ٹارچ کے ذریعہ آپ لوگوں کو یہ مضمون سمجھاؤں کیونکہ ٹارچ میں یہ تینوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔اور یہ عجیب بات ہے کہ قرآن مجید با وجود یکہ ایسے زمانہ میں نازل ہوا جبکہ سائنس ابھی کمال کو نہیں پہنچی تھی۔اور ایسے ملک میں نازل ہوا جہاں کے لوگ بدو سمجھے جاتے تھے اور تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھے اور ایسے انسان پر نازل ہوا جو اُمی تھا۔پھر بھی روشنی کے کمال کو جس عجیب طرز سے ان آیات میں بیان کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بیسویں صدی کا انجینئر روشنی کی حقیقت بیان کر رہا ہے۔مشکوۃ جس طرح اُس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوار میں بنایا جاتا ہے اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا ، اسی طرح مصباح اُس شعلہ کو کہتے ہیں جو بتی میں سے نکلتا ہے یا بلب کی وہ تاریں سمجھ لو جن سے بجلی کی روشنی پیدا ہوتی ہے بشرطیکہ وہ روشن ہوں۔مصباح کے معنے دراصل ” صبح کر دینے کا آلہ کے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ہر چیز جس سے روشنی ہوتی ہوا سے مصباح کہا جاتا ہے اور وہ چونکہ بتی کا گل ہی ہوتا ہے یا بجلی کی وہ تاریں ہوتی ہیں جو بلب کے اندر ہوتی ہیں اور چمکتی ہیں ، اس لئے عربی زبان میں انہیں مصباح کہتے ہیں۔گویا وہ شعلہ جو آگ لگنے کے بعد بتی میں سے نکلتا ہے یا بجلی کی وہ تار جہاں بجلی بھتی ہے تو وہ یکدم روشن ہو جاتا ہے وہ مصباح ہیں۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایک طاقچہ کی سی ہے جس میں ایک بتی جل رہی ہو اور پھر وہ بتی ایک زجاجہ میں ہو۔اب تو قادیان میں بجلی آگئی ہے اور لوگوں کا ایک حصہ بجلی جلاتا ہے۔لیکن پھر بھی اکثر گھروں میں ابھی بھلی نہیں لگی اور وہ لیمپ جلاتے ہیں اور جن کے ہاں بجلی لگی ہوئی ہے ان کی بجلی کی رو بھی جس دن فیل ہو جائے اُس دن اُنہیں لیمپ جلانے پڑتے ہیں۔یا انہیں قادیان سے جب باہر جانا پڑے تو لیمپ دیکھنے اور جلانے کا انہیں اکثر موقع