خطبات محمود (جلد 18) — Page 433
خطبات محمود ۴۳۳ سال ۱۹۳۷ء آئینوں میں ہوتے ہیں مگر ان میں سے شکل نظر نہیں آسکتی کیونکہ ان کے پیچھے قلعی نہیں لگی ہوتی۔اسی طرح جن شیشوں کے چوکٹھے اُتر جاتے ہیں رویا میں ہی میں کہتا ہوں کہ ان شیشوں کا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔تو آئینہ اپنے اندرونی جو ہر ظاہر کرنے کیلئے ایک ایسی چیز کے آگے کھڑا ہوتا ہے جو اپنی ذات میں تو چہرہ دکھانے والی نہیں مگر جب وہ آئینہ سے مل جاتی ہے تو آئینہ میں شکل نظر آنے لگ جاتی ہے اور وہ قلعی ہے۔اسی طرح اس کا چوکٹھا اسے محفوظ رکھتا ہے۔تو میں رویا میں یہ مثال دے کر کہتا ہوں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے اور انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اسی کو حاصل کرنا ہے۔وہی ہے جو ہمیں علم دیتا ہے، وہی ہے جو ہمیں عرفان دیتا ہے ، وہی ہے جو بھی عیب سے آگاہی بخشتا ہے، وہی ہے جو ہمیں تو اب کی باتوں کا علم دیتا ہے لیکن وہ اپنی قدیم سنت کے مطابق اُس وقت تک دنیا کو عیب اور صواب سے آگا ہی نہیں بخشا جب تک اس کے پیچھے قلعی نہیں کھڑی ہو جاتی جو نبوت کی قلعی ہے۔یعنی وہ ہمیشہ اپنے وجود کو نبیوں کے ہاتھ سے پیش کرواتا ہے۔جب نبی اپنے ہاتھ میں لے کر خدا تعالیٰ کے وجود کو پیش کرتا ہے تبھی دنیا اُس کو دیکھ سکتی ہے ورنہ نبوت اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی ہستی اتنی مخفی اور اتنی وراء الوراء ہوتی ہے کہ انسان صحیح اور یقینی طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ آسمانوں میں بھی ہے، اللہ تعالی زمینوں میں بھی ہے، اللہ تعالی دریاؤں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ پہاڑوں میں بھی ہے، اللہ تعالی سمندروں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ خشکیوں میں بھی ہے۔غرض ہر ایک ذرہ ذرہ سے اس کا جلال ظاہر ہو رہا ہے مگر با وجود اس کے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ میں اس کا جلال پایا جاتا ہے بغیر انبیاء کے دنیا نے کب اس کو دیکھا۔انبیاء ہی ہیں جو ان خدا تعالیٰ کا وجود دنیا پر ظاہر کرتے ہیں۔لیکن انبیا ء خدا تعالیٰ کو بناتے تو نہیں ، وہ تو ازل سے موجود ہے پھر وجہ کیا ہے کہ انبیاء کے آنے پر دنیا خدا تعالیٰ کو دیکھنے لگ جاتی ہے اور پہلے نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جس طرح آئینہ کے پیچھے قلعی کا وجو د ضروری ہوتا ہے اسی طرح انبیاء کو خدا تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔پھر چوکٹھا جو ہوتا ہے وہ آئینہ کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے اور وہ بھی نبوت اور خلافت کا مقام ہے یعنی انبیاء اور ان کے خلفاء اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں۔خود اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ حیی و قیوم ہے لیکن اُس نے اپنی سنت یہی رکھی ہے کہ وہ اپنے وجود کو بعض انسانوں کے ذریعہ قائم رکھے۔ان وجودوں کو مٹا دوساتھ ہی خدا تعالیٰ کا ذکر بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔تم ساری دنیا کی تاریخیں پڑھ