خطبات محمود (جلد 18) — Page 429
خطبات محمود ۴۲۹ سال ۱۹۳۷ء اے ابدی زندگی بخشنے والے ! جس نے اپنے مسیح کو دوبارہ زندہ کرنے کی پیشگوئی فرمائی تھی تو مجھے ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے پر رحم کر اور اس حیات کے پانی میں سے تھوڑ اسا مجھ پر بھی چھڑک تا میری بے ایمانی جاتی رہے اور روحانی موت زندگی سے بدل جائے اور تیرے احیا کی صفت کو اپنی ذات میں مشاہدہ کرلوں۔مگر افسوس کہ ایسا نہ کیا گیا اور کچھ تو ۲۳ سال سے اپنی روحانی موت کی تیاریاں کر رہے ہیں اور کچھ بعد میں ان میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں ان کی روحانی موت پر خوشی نہیں۔ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا ہر ایک روحانی زندگی پائے۔مگر ہم خدا تعالیٰ کی مشیت میں روک نہیں بن سکتے۔ہاں اس سے ہماری ہمیشہ یہی التجا ہوتی ہے کہ خدایا ! یہ کچھ پیا سے تڑپ رہے ہیں اپنی رحمت کا پانی ان کو بھی پلا دے۔یہ کچھ روحانی بیمار تکلیف سے اور بیماری کی شدت سے سسک رہے ہیں اور ان کی جانیں ان کے نتھنوں تک پہنچ چکی ہیں۔اے مردوں کو زندہ کرنے والے ! تو ان کو پھر زندگی بخش تا یہ تیری ہدایت سے محروم نہ رہ جائیں۔اور قیامت کے دن تیرے مسیح کے سامنے، تیرے خاتم النہین کے سامنے اور خود تیرے سامنے ان کو شرمندگی اور ذلت نہ اٹھانی پڑے۔کاش! قیامت کے دن جبکہ کچھ لوگ جو صحا بہ کہلاتے تھے حوض کوثر کے پاس سے ۱۴ دھکیل کر لے جائے جارہے ہوں گے اُس وقت ان کے متعلق ہمارے آقا سیدنا محمد مصطفی علی دل کو بہ کہنا پڑے کہ اُصَيْحَابِی اُصَيْحَابِی یہ تو میرے صحابی ہیں ، یہ تو میرے صحابی ہیں ، انہیں تم کہاں لئے جا رہے ہو؟ اور خدا کے فرشتوں کو یہ جواب نہ دینا پڑے يَا رَسُولَ اللهِ ! یہ آپ کے صحابی تھے مگر آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا ،کیا کچھ غضب ڈھایا۔" خدا تعالیٰ کی رحمتیں وسیع ہیں۔ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ اس کا فضل نہ صرف ہم پر بلکہ پہلوں پر بھی اور پچھلوں پر بھی ہوں۔اس کی ساری ہی مخلوق اس کے فضل کے نیچے آجائے۔خدا کے خزانے محدود نہیں کہ ہمیں اپنے حصہ کی فکر ہو۔ہمیں وہ جو کچھ دینا چاہتا ہے اس کے دینے کے بعد بھی اس کے خزانے معمور ہی رہیں گے ، بھر پور ہی رہیں گے۔پس اگر دوسرے ہمارے بھائی کہلانے والوں کو اس کی رحمت کا حصہ مل جائے تو ہمارے لئے یہ خوشی کا ہی امر ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے کھڑا کیا ہے کہ دنیا میں اسلام اور ہدایت کا جھنڈا گاڑ دیں۔پس ہر ایک شخص جو ارتداد سے بچایا جاتا ہے وہ ہماری فتح کا نشان ہے اور غلبہ کی علامت ہے۔ہر ایک شخص جو بخشا جاتا ہے وہ ہمارا حصہ بٹا تا نہیں بلکہ بڑھاتا ہے۔