خطبات محمود (جلد 18) — Page 379
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء نادان نہیں جانتے کہ موٹر تو جلدی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا ذریعہ ہے۔موٹر کی قیمت عرب کے گھوڑے کے برابر ہی ہوتی ہے۔اور رسول کریم ﷺ کئی کئی گھوڑے رکھتے تھے۔پھر گاڑی بھی تو سواری کا زریعہ ہے۔اگر موٹر سادگی کے خلاف ہے تو پھر گاڑی میں بھی سفر نہیں کرنا چاہئے۔کامل سادگی اسی میں ہے کہ پیدل چلا جائے۔میرا موٹر تو بہت سارا دینی کاموں کے کام آتا ہے۔سلسلہ کے جو مہمان یہاں آتے ہیں ان کے سواری کے کام یہی آتا ہے۔پھر سلسلہ کے کاموں کیلئے لاہور وغیرہ جانا پڑے تو اسی پر چلے جاتے ہیں۔اگر سلسلہ موٹر خریدتا اور میں اسے استعمال کرتا تب بھی کوئی اعتراض کی بات نہ تھی۔اگر وائسرائے گاڑی میں سفر کرے یا ہوائی جہاز پر کرے تو کیا حکومت اس کا انتظام کرتی ہے ؟ نہیں ؟ اس کیلئے سواری کا انتظام حکومت کے ہی ذمہ ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ پھرے گا نہیں تو کام کیسے کرے گا۔اس لئے اگر سلسلہ کی طرف سے خرید کردہ موٹر کو میں استعمال کرتا تو بھی کوئی اعتراض کی بات ی نہ تھی۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ میرے روپے سے خریدا گیا اور سلسلہ کے کام آتا ہے یہ ایک قابل تعریف بات تھی لیکن نادان اس پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ سید عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ ایک ایک ہزار دینار کا لباس پہنا کرتے تھے۔کسی نے اس پر اعتراض کیا تو ی انہوں نے فرمایا کہ یہ نادان نہیں جانتا کہ میں اُس وقت تک کوئی کپڑا پہنتا ہی نہیں ہوں جب تک خدا تعالیٰ کی مجھے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر ! تجھے میری ہی قسم کہ یہ کپڑا پہن۔اور میں نہیں کھاتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے ہے نہیں کہتا کہ عبد القادر! تجھے میری ہی قسم کھا۔اور تم کو یاد ہوگا کہ ۱۹۳۳ء کی عید الفطر کے خطبہ کے موقع پر میں نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑا ہجوم ہے میں اس میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی بھی میرے پاس بیٹھے ہیں۔کچھ لوگ مجھے دبا ر ہے ہیں۔ان میں سے ایک شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا، اُس نے آہستہ آہستہ میرا ازار بند پکڑ کر گرہ کھولنی چاہی۔میں نے سمجھا اس کا ہاتھ اتفاقا لگا ہے اور میں ازار بند پکڑ کر اُس کی جگہ پر اٹکا دیا۔پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے پھر یہی سمجھا کہ اتفاقیہ اُس سے ایسا ہوا ہے۔تیسری دفعہ پھر اس نے ایسا ہی کیا تب مجھے اس کی بد نیتی کے متعلق شبہ ہوا اور میں نے اسے روکا نہیں جب تک کہ میں نے دیکھ نہ لیا کہ وہ بالا رادہ ایسا کر رہا ہے تا جب میں کھڑا ہوں تو ننگا ہو جاؤں اور لوگوں میں میری سبکی ہو۔تب میں نے اُسے ڈانٹا اور کہا تو جانتا نہیں مجھے