خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 378

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء بندے کا کام خدا تعالیٰ کا امتحان لینا نہیں مگر میں نے کئی دفعہ ابراہیم کی طرح جوش محبت میں خدا تعالیٰ سے اُس کی قدرتوں کے دیکھنے کی خواہش کی ہے اور اس نے میری خواہش پوری کی ہے۔ایک کی دفعہ میں ایک سفر پر تھا اور ایسے علاقہ سے گزر رہا تھا جہاں کوئی احمدی نہ تھا۔غالبا نشانات کا ذکر تھا میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے کہا کہ مجھے اپنے نشان کے طور پر ایک روپیہ دلوا دیں۔اب یہ بات تو بالکل ہی عقل کے خلاف تھی کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی مجھے ایک روپیہ دے دیتا۔اور اُس وقت یہ ذکر ہورہا تھا کہ اس علاقہ میں کوئی احمدی نہیں اور لوگ شدید مخالف ہیں۔مگر ادھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور اُدھر سامنے ایک گاؤں کے لوگ کھڑے نظر آئے اور ہمارے کسی ساتھی نے کہا کہ اس گاؤں میں۔نہیں گزرنا چاہئے یہ لوگ سخت مخالف ہیں اور نمبر دار کئی دفعہ کہہ چکا ہے کہ یہاں اگر کوئی احمدی آیا تو اسے جوتے مرواؤں گا اس لئے اس گاؤں سے ہٹ کر چلنا چاہئے۔مگر ہم اس قدر قریب پہنچ چکے تھے کہ اور کوئی رستہ ہی نہ تھا، اس لئے چلتے گئے۔ہمیں دیکھ کر وہ نمبردار آگے بڑھا۔میرے ساتھی میرے ارد گرد ہو گئے کہ ایسا نہ ہو حملہ کر دے۔مگر اُس نے بڑھ کر سلام کیا اور ایک روپیہا اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بطور نذرانہ پیش کیا۔میں مسکرا پڑا اور وہ دوست گاؤں سے باہر نکل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرنے لگے۔ایک نے کہا اس کا روپیہ لینا نہیں چاہئے تھا۔میں نے کہا اسی کا تو لینا چاہئے تھا۔اسے کیا معلوم تھا کہ وہ روپیہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندہ کے ناز کو پورا کرنے کی علامت تھا۔تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ مجھ سے ایسا ہے کہ اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔بیسیوں مرتبہ میں نے اپنی آمد اور اخراجات کا حساب کیا ہے تو اخراجات آمد سے ہمیشہ دوگنا ہوئے ہیں اور پھر پتہ نہیں وہ کس طرح پورے ہوتے ہیں۔پھر حساب کے معاملہ میں میں اس قد رمحتاط ہوں کہ میں چیلنج کرتا رہتا ہوں کہ جو چاہے میرے حساب کو دیکھ لے۔پچھلے دنوں ایک شخص کے اعتراضات کے جواب میں میں نے جو خطبہ پڑھا تو ایک غیر مبائع کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا ہے میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ کے حسابات ہمارے حسابات سے زیادہ صاف ہیں۔ہم پر اعتراض ہو سکتے ہیں مگر آپ پر نہیں۔مگر آخر میں یہ بھی لکھ دیا کہ تین سال سے جو فلاں شخص پیدا ہوا ہے، شاید اس سے ڈر کر یہ حساب رکھے گئے ہیں۔میں نے اسے لکھا کہ تین سال سے نہیں بلکہ ۲۲ سال سے ہی ایسے ہیں جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کو اپنے ساتھ دیکھ کر میں کسی انسان پر کوئی امید نہیں رکھ سکتا۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ موٹر رکھا ہوا ہے۔