خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 377

خطبات محمود ۳۷۷ سال ۱۹۳۷ء کی اطاعت کے نکتہ کو سمجھ لوتو تمہاری مدد کو بھی آئے گا۔نصرت ہمیشہ اطاعت سے ملتی ہے۔جب تک خلافت قائم رہے نظامی اطاعت پر اور جب خلافت مٹ جائے انفرادی اطاعت پر ایمان کی بنیاد ہوتی ہے۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے عقلمند اور مدبر ہو، اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا بیٹھنا کھڑا ہونا اور چلنا ، تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر اور کی اس جگہ پر کھڑا ہوں۔ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے وہ یقینا نبی کی اطاعت سے باہر جاتا ہے۔جو میرا جوا اپنی گردن سے اُتارتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جواً اُتارتا ہے۔اور جو ان کا جواً اُتارتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا جواً اُتارتا ہے۔اور جو آنحضرت ﷺ کا جوا اُتارتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا جواُ اُتارتا ہے۔میں بے شک انسان ہوں خدا نہیں ہوں مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔مجھے جو بات کہنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے میں اسے چھپا نہیں سکتا۔مجھے اپنی بڑائی بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور میں اس وقت تک اس شرم کی وجہ سے رُکا رہا ہوں لیکن آخر خدا تعالیٰ کے حکم کو بیان کرنا ہی پڑتا ہے۔میں انسانوں سے کام لینے کا عادی نہیں ہوں۔تم بائیس سال سے مجھے دیکھ رہے ہو اور تم میں سے ہر ایک اسی امر کی گواہی دے گا کہ ذاتی طور پر کسی سے کام لینے کا میں عادی نہیں ہوں۔حالانکہ اگر میں ذاتی طور پر بھی کام لیتا تو میرا حق تھا مگر میں ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہوں کہ خود دوسروں کو فائدہ پہنچاؤں مگر خود کسی کا ممنونِ احسان نہ ہوں۔خلفاء کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس سے اس کے ماں باپ نے خدمات نہ لی ہوں گی۔مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی سے ذاتی فائدہ اٹھانے یا خدمات لینے کی میں نے کوشش کی ہو۔میرے پاس بعض لوگ آتے ہیں کہ ہم تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ اپنی پسند کی چیز بتا دیں مگر میں خاموش ہو جاتا ہوں۔آج تک ہزاروں نے مجھ سے یہ سوال کیا ہوگا ہی مگر ایک بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس کا جواب دیا ہو۔میرا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا ہے کہ وہ خود میری دستگیری کرتا ہے اور میرے تمام کام خود کرتا ہے۔