خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 332

خطبات محمود ۳۳۲ سال ۱۹۳۷ء رشتہ قائم کر کے در پردہ کسی اور سے تعلق رکھنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔اگر ایک شخص کا مکان کسی کے پاس رہن نہیں تو اسے اختیار ہے کہ چاہے اپنا مکان خفیہ طور پر اسے رہن کر دے اور چاہے ظاہر کر دے لیکن جس کا مکان پہلے سے رہن ہے وہ اگر خفیہ طور پر کسی دوسرے کے پاس رہن کر دیتا ہے تو ہر شخص کہے گا کہ یہ پکا بدمعاش ہے۔پس ایک طرف بیعت کرنے والا دوسری طرف ملے تو یقینا وہ منافق ہے۔ہاں جو کسی سلسلہ میں شامل نہیں وہ اگر خفیہ طور پر کسی سے ملتا ہے تو یہ اور بات ہے۔صحابہ اس امر کا اس قد ر لحاظ رکھتے ہی تھے کہ ایک دفعہ قیصر روم کا ایچی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور چاہا کہ اسلام قبول کرے۔انہوں نے اس سے صاف انکار کیا اور فرمایا اس وقت تم قیصر کے ایچی ہو۔اس وقت تمہارا اسلام میں داخل ہونا بددیانتی ہوگا۔واپس جا کر استعفیٰ دے کر آؤ تو پھر تم کو اسلام میں داخل کروں گا۔پھر مصری صاحب کہتے ہیں کہ جماعت ایک آزاد کمیشن مقرر کرے مگر یہ معلوم نہیں اس سے ان کا مطلب کیا ہے۔میں اس وقت تک ان کے اس مطالبہ کو لغو سجھتا ہوں مگر ممکن ہے ان کے ذہن میں کوئی ایسی صورت ہو جو ہمارے ذہن میں نہ ہو اور وہ ہمارے نزدیک بھی معقول ہو اس لئے میں ان سے ان کے ان الفاظ کے معنے پوچھنا چاہتا ہوں اور اس ضمن میں پہلی بات میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ:۔پہلے خلفاء کے خلاف بھی بعض لوگوں نے شکایات کی ہیں اور بعض دفعہ ایسے مقدمات عدالتوں میں بھی سُنے گئے ہیں ،مصری صاحب بتائیں کہ ان کے فیصلوں کے لئے کس قسم کے کمیشن مقرر ہوئے تھے ؟ یا ان خلفاء کے اپنے مقرر کردہ قاضی ہی ان مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آزاد کمیشن مانگنا مصری صاحب کا ہی حق ہے یا اور کسی کا بھی ؟ کیا جب کوئی آکر کہے کہ خلیفہ کے متعلق آزاد کمیشن بٹھایا جائے یہ مطالبہ منظور ہو جانا چاہئے یا صرف اُس وقت جب مصری صاحب اس کا مطالبہ کریں؟ جس طرح پنجابی میں مثل مشہور ہے کہ جتھے میاں نور جمال او تھے مُردہ کھوتا وی حلال۔غرض وہ بتائیں کہ ہر معترض آزاد کمشن طلب کر سکتا ہے یا صرف وہی ایسا کر سکتے ہیں۔تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ بتائیں کہ آزاد کمیشن سے ان کی مراد کیا ہے؟ کیا مادر پدر آزاد یعنی دہریوں کا کمیشن وہ مانگتے ہیں یا ان کے نزدیک آزاد کمیشن وہ ہے جسے وہ مقرر کریں خلیفہ نہ مقرر کرے۔اگر یہ دونوں مراد نہیں تو وہ بتائیں کہ ان کا مطلب کیا ہے۔آیا وہ چاہتے ہیں کہ ساری جماعت کو دعوت دی جائے اور پھر ووٹ لئے جائیں کہ کون کون حج مقرر ہو۔اور ہمیشہ کیلئے یہی طریق ہو کہ جب کوئی