خطبات محمود (جلد 18) — Page 33
خطبات محمود ۳۳ سال ۱۹۳۷ء جاتے ہیں جن پر پہلے اعتراض کیا کرتے ہیں۔چنانچہ ان کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ ہم لوگ خلافت کے قائل ہیں۔مگر اب ایک دوست نے ان کا ایک خط بھجوایا ہے جو غیر علاقہ کے کسی آدمی کو ان کی انجمن کے سیکرٹری نے لکھا اور جس میں مولوی محمد علی صاحب کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح امیر ایدہ اللہ کے الفاظ تحریر کئے ہیں۔دیکھو! یا تو بھی خلافت پر اعتراض کئے جاتے تھے یا اپنے خطوط پر چوری چھپے مولوی محمد علی صاحب کے متعلق خلیفتہ المسیح لکھا جانے لگ گیا ہے۔یہ خط جو غیر مبائعین کا پکڑا گیا ہے، اس کے نیچے سیکرٹری کے طور پر غلام نبی مسلم کا نام لکھا ہؤا ہے۔غرض جو کام میں کرتا ہوں اس پر یہ لوگ پہلے اعتراض کرتے ہیں مگر پانچ دس سال کے بعد انہی کاموں کی نقل شروع کر دیتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب یہ کہتے تھے کہ وصیت میں کیا رکھا ہے، کیا اسی زمین میں داخل ہو کر انسان جنتی بن سکتا ہے، اس کے علاوہ جنتی نہیں بن سکتا۔وہ زمانہ میں نہیں بھول سکتا جب ان لوگوں نے بہشتی مقبرہ کے پاس کچھ زمین خریدی تو کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ تو بہشتی مقبرہ پر اعتراض کیا کرتے تھے اور اب خود بہشتی مقبرہ کے طور پر ایک زمین خرید لی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے یہ اتو ؤں کو تسلی دینے کیلئے خریدی گئی ہے یعنی بعض اتو ایسے بھی ہیں کہ جب تک بہشتی مقبرہ کے پاس قبروں کیلئے کوئی جگہ نہ ہوا نہیں تسلی نہیں ہوتی۔اس دوست نے وہ بات آگے بیان کی پھر اور لوگوں میں مشہور ہوئی یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ہماری جماعت میں پیغامیوں کے مقبرہ کا نام ہی اُلّو ؤں کا مقبرہ ہو گیا۔غرض انہوں نے وصیتوں پر تمسخر اڑا دیا، اپنی وصیتیں واپس لے لیں حتی کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنی وصیت منسوخ کرائی۔مگر آج ہیں بائیس سال کے بعد اپنے جلسہ سالانہ میں مولوی محمد علی صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا میں اپنے گناہ کا نہایت ندامت کے ساتھ اقرار کرتے ہوئے اشاعت اسلام کیلئے وصیت کرتا ہوں گویا اب وصیت کرنا نیک کام بن گیا۔فرق صرف یہ ہے کہ ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرر کردہ بہشتی مقبرہ کیلئے وصیت کرنے والا ان الفاظ کا مستحق ہے جوانہوں نے کہے لیکن جو لاہور کی انجمن اشاعت اسلام کیلئے وصیت کرے وہ بڑی نیکی کا کام کرتا ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ایک معقول انسان، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صحبت میں رہنے والا انسان ، اسلام پر کتا میں لکھنے والا انسان ، ایک انجمن کا پریذیڈنٹ کہلانے والا انسان جس کے خطوں میں اب چوری چھپے خلیفہ امسیح کے الفاظ بھی لکھے جا رہے ہیں ، اُس نے یہ کیونکر کہہ دیا کہ چونکہ