خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 32

خطبات محمود ۳۲ سال ۱۹۳۷ء یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص سڑک پر چلتے ہوئے راستہ سے کنکر، پتھر اور کانٹے وغیرہ ہٹا کر ایک طرف کر دیتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ثواب کا مستحق ہوتا ہے ہے۔مگر اس حدیث کو دیکھ کر کوئی نہیں کہتا کہ صلى الله رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو صفائیوں میں لگادیا اور اشاعت اسلام کی طرف سے ان کی توجہ کو پھرا لیا۔پھر رسول کریم له بعض دفعہ صحابہ کو حکم دیتے کہ گتے مارو۔چونکہ آوارہ کتوں کی کثرت کی وجہ سے خدشہ ہوتا ہے ہے کہ وہ دیوانے ہو جائیں اور لوگوں کو نقصان پہنچے اس لئے رسول کریم ہے بعض دفعہ صحابہ کو گتے مارنے نا حکم دے دیتے مگر کبھی کسی نے نہیں کہا کہ اشاعت اسلام سے اس طرح لوگوں کی توجہ پھرالی گئی ہے۔جو وقت کتوں کے مارنے پر صرف ہوگا وہی وقت تبلیغ میں کیوں نہ صرف کریں۔پھر حدیثوں میں اور صحیح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ صحابہ کو تیر اندازی اور نیزہ بازی کی مشق کراتے اور بعض دفعہ خود بھی اس میں شامل ہوتے۔اگر یہی بات درست ہے کہ جماعت کے کسی فرد کو لو ہارے یا تر کھانے کا کام کی سکھانے سے دین میں فرق آجاتا ہے تو کیوں یہ نہ سمجھا جائے کہ جتنی دیر رسول کریم ﷺ صحابہ کو نیزہ بازی یا تیراندازی کراتے ، اتنی دیر دین میں فرق آیا رہتا تھا۔بلکہ بخاری میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے فرمایا ، عائشہ ! آٹو بھی نیزہ بازی کے کرتب دیکھے؟ ی یہ نہیں کہا کہ میں تو نیزہ بازی کے کرتب دیکھتا ہوں اور تم ذرا تبلیغ کر آؤ۔پھر کیا مولوی محمد علی صاحب کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی چائے کی پارٹی یا دعوت میں کبھی شامل نہیں ہوئے؟ یا کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی دوست سے کبھی ملنے نہیں گئے یا کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی بیمار کی عیادت کیلئے کبھی نہیں گئے یا کیا وہ کہہ سکتے ہی ہیں کہ وہ کہیں سیر کیلئے کبھی نہیں گئے اگر نہیں کہہ سکتے تو انہوں نے ان وقتوں کو تبلیغ اسلام میں کیوں صرف نہیں کیا اگر کسی دعوت میں ایک اور پیسٹری اُڑانے اور پلاؤ اور زردہ کھانے کے باوجود ان کی اشاعت کی اسلام میں فرق نہیں آتا تو چند یتیموں اور نادار بچوں کو نجاری یا آہن گری کا کام سکھلانے پر ہمارے دین میں کس طرح فرق آجاتا ہے اور ہم ان کی نگاہ میں کیوں بے دین بن جاتے ہیں۔یہ تو اصل میں کھو کھٹے والی بات ہے۔ہر کام جو میں نے آج تک کیا اُس پر انہوں نے اعتراض کیا مگر پانچ دس سال کے بعد جب دیکھتے ہیں کہ ہمارا اعتراض لوگوں کو بھول گیا ہوگا تو وہی کام خود شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہے ہماری قوم کی ترقی جو اس نے تھوڑی سی مدت میں کر لی۔بلکہ ایک مدت کے بعد تو الفاظ بھی وہی لکھنے لگ