خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 302

خطبات محمود ٣٠٢ سال ۱۹۳۷ء کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد اشتر، طلحہ کے پاس گئے اور بیعت کے لئے کہا۔انہوں نے کہا مجھے مُہلت دو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ کیا فیصلہ کرتے ہیں مگر انہوں نے نہ چھوڑا اور جَاءَ بِه يَتْلُهُ تَلا عَنِيفًا كے ان کو زمین پر نہایت سختی سے گھسیٹتے ہوئے لے آئے۔جیسے بکرے کو گھسیٹا جاتا ہے۔پھر حارث الوالی کی روایت ہے کہ حضرت زبیر کو جبراً حکیم بن جبلہ بیعت کیلئے لایا تھا اور حضرت زبیر یہ کہا کرتے تھے کہ جَاءَ نِی لِضٌ مِنْ لُصُوصِ عَبْدِ الْقَيْسِ فَبَايَعْتُ وَاللجُ عَلَى عُنُقِى یعنی عبد القیس قبیلہ کے چوروں میں سے ایک چور میرے پاس آیا اور اس کے مجبور کرنے پر اس حالت میں میں نے بیعت کی کہ تلوار میری گردن پر تھی اور مجھے کہا جاتا تھا کہ بیعت کرو ورنہ تمہاری گردن اُڑا دی جائے گی۔اس بیعت کو کون شخص ہے جو بیعت کہہ سکے۔پھر تاریخوں سے صاف ثابت ہے کہ جب وہ حضرت علی کی بیعت کرنے لگے تو انہوں نے کہا ہماری شرط یہ ہے کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے آپ بدلہ لیں۔پس چونکہ اُنہوں نے شرط کر کے بیعت کی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی شرط پوری نہ کر سکے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے اور پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے اور اس سے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں اور پھر چونکہ جبراً ان سے بیعت لی گئی تھی اس لئے وہ چوتھے دن ہی چلے گئے اور بیعت سے الگ ہو گئے۔پس یہ کہنا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے بیعت کر کے چھوڑ دی ایک مغالطہ ہے وہ بیعت نہیں تھی بلکہ جبری بیعت تھی۔اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی شخص کا ہاتھ زبردستی نیل کے مکے میں ڈال دیا جائے اور پھر کہنا شروع کر دیا جائے کہ اس نے اپنے ہاتھ نیلے کر لئے ہیں۔انہوں نے بھی جبراً بیعت کی تھی۔وہ خود کہتے ہیں ہم نے ایسی حالت میں بیعت کی وَاللجُ عَلَى أَعْنَاقِنَا جَبکہ تلواریں ہماری گردنوں پر رکھی تھیں۔پھر انہوں نے بیعت پر زیادہ دیر بھی نہیں لگائی۔تیسرے یا چوتھے دن وہ سکے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ نہیں لیا جاتا اور اسی شرط پر ہم نے بیعت کی تھی اس لئے ہم اپنی بیعت پر قائم نہیں رہتے۔اب بتاؤ اس میں اور مصری صاحب کی بیعت میں آیا کوئی بھی مناسبت ہے اور کیا مصری صاحب سے جب بیعت لی گئی تھی تو تلوار ان کی گردن پر رکھی گئی تھی؟ یا کیا انہوں نے کسی شرط پر میری بیعت کی تھی؟ اور کیا وہ ۲۳ سال تک میری اطاعت اور