خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 290

خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۷ء جماعت نے جو کچھ جواباً کہا وہ اس سے بہت کم ہے جو انہوں نے ہمارے متعلق کہا۔اسی طرح ان کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں نے جماعت کیلئے قربانی کی۔وہ حالات سے مجبور ہو گئے تھے اس لئے وہ ہم سے علیحدہ ہوئے ورنہ انہوں نے پہلا خط جو مجھے لکھا اس سے ان کا مقصد ہرگز جماعت سے علیحد گی نہیں تھا بلکہ مجھے ڈرانا اور بعض باتیں مجھ سے منوانا تھا۔لیکن جب ان کی وہ غرض پوری نہ ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ اب میرا اندرونہ بھی ظاہر ہو چکا ہے جس کے بعد میرا اس جماعت میں رہنا ناممکن ہے تو انہوں نے خود ہی اپنے تیسرے خط میں جماعت سے علیحدہ ہونے کا وقت مقرر کر دیا۔اسی اشتہار میں انہوں نے ایک بات یہ بھی لکھی ہے کہ میرے متعلق کہا یہ جاتا ہے کہ میں جماعت سے الگ ہو گیا ہوں حالانکہ میں جماعت سے الگ نہیں ہوا، صرف بیعت سے الگ ہوا ہوں۔میں نے اس سوال کے اصولی حصہ کا جواب پہلے دے دیا ہے بلکہ ان کے اشتہار کے شائع ہونے سے بھی پہلے میرے ایک خطبہ میں ان کے اس اعتراض کا جواب آپ کا ہے اور وہ خطبہ آج کے الفضل میں چھپ بھی گیا ہے۔آج میں ان کے بعض اُن دلائل کا جواب دینا چاہتا ہوں جو انہوں نے اس بارہ میں اپنے اشتہار میں دیئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں ” میں اس جگہ بعض دوستوں کے اس خیال کے متعلق بھی کہ خلیفہ سے ی علیحدگی جماعت سے علیحدگی کے ہی مترادف ہے کچھ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت نہیں کرتا یا بیعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے وہ اصل سلسلہ سے بھی الگ کی ہو جاتا ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حضرت ابو بکر کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی تو کیا کوئی ان کے کی متعلق یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ وہ اُس وقت تک اسلام سے خارج تھے؟ حضرت علی کی بیعت مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ نے نہیں کی تھی تو کیا وہ سب اسلام سے خارج تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی تو کیا انہیں اسلام سے خارج سمجھتے ہو؟ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فسخ کر لیا مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔دوستو! یہ خیال کسی مصلحت کے ماتحت آج پیدا کیا جارہا ہے ورنہ قرآن کریم ، احادیث نبوی، عمل صحابہ کرام میں اس کا نام ونشان بھی نہیں ملتا“۔یہ گویا انہوں نے اس بات کی تائید میں اپنی طرف سے دلائل دیئے ہیں کہ میں خلیفہ کی بیعت سے الگ ہوا ہوں جماعت سے الگ نہیں ہوا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مصری صاحب نے اس