خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 265

خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۷ء اس سے احسانات کئے مگر یہ ایسا احسان فراموش نکلا کہ میرے حُسنِ سلوک کے باوجود میرا منہ چڑاتا رہا۔پس ان کے دائیں طرف ہونے میں ان کی کوئی فضیلت نہیں بلکہ انہیں میرے احسانات کا زیر بار دکھایا گیا ہے۔چنانچہ اس کی مثال حدیثوں سے بھی ملتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں مجلس میں دودھ پیش کیا گیا۔آپ نے اس میں سے کچھ تھوڑا سا دودھ پینے کے بعد اپنے دائیں بائیں دیکھا۔حضرت ابو بکر اُس وقت آپ کے بائیں طرف تھے اور آپ کے دائیں طرف ایک نوجوان لڑکا بیٹھا تھا۔آپ نے اُس لڑکے کی طرف دیکھا اور فرمایا میرے اس تحفہ پر حق تمہارا ہی ہے کیونکہ تم دائیں طرف ہوتی مگر کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ دودھ ابو بکر کو دے دوں؟ وہ لڑکا کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ میں اپنا حق چھوڑ نے کیلئے تیار نہیں۔اس مثال کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے خواب پر غور کرو تمہیں معلوم ہوگا کہ خواب میں جو کچھ بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ میں نے مصری صاحب سے ہمیشہ دائیں والا سلوک کیا مگر یہ میرا منہ چڑاتے رہے۔مصری صاحب کا یہ کہنا کہ خواب میں بتایا گیا ہے کہ میری کارروائیوں کو جماعت دیکھے گی اور بُرا نہیں منائے گی ، بتاتا ہے کہ میں کامیاب ہوں گا ، صریح غلط بیانی ہے۔خواب کے الفاظ یہ ہیں سٹیج پر جو دوسرے لوگ بیٹھے ہیں ان میں سے بعض مصری صاحب کی اس حرکت کو بھی دیکھ رہے ہیں۔اس بعض کے لفظ کو اڑا دینا مصری صاحب کی اس ذہنیت کو آشکارا کرتا ہے جو ان میں اب جماعت سے علیحدہ ہو کر پیدا ہوگئی ہے۔ہم تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ بعض لوگ ان کے ہم خیال ہیں لیکن بعض کا لفظ اڑا کر جماعت کا لفظ اختیار کرنا اور اس سے کامیابی کا نتیجہ نکا لنا دھوکا نہیں تو اور کیا ہے۔خواب میں صاف بتایا گیا ہے کہ جماعت کی اکثریت میرے ساتھ ہے تبھی تو جب میں اُٹھا تو وہ ساتھ اُٹھ کر چلے آئے ورنہ وہ مجھے چھوڑ کر مصری صاحب کے ساتھ رہتے اور سب کے سب مل کر گیدڑوں کی طرح منہ چڑانے لگتے۔در حقیقت انہوں نے اس خواب کی جو تعبیر کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا علم محض سطحی ہے تعبیر کے علم سے انہیں کوئی مناسبت نہیں۔کیونکہ تعبیر ایک روحانی علم ہے اور وہ روحانی کو چہ سے بالکل نا آشنا ہو چکے ہیں اور مجھ پر اعتراض کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کر رہے ہیں۔جو دوسری خواب میں نے ملک صاحب کی بتائی اس میں رسول کریم ﷺ کی ریش مبارک ملک صاحب کو بالکل و میری ڈاڑھی کے مطابق اور ہم شکل دکھائی گئی ہے۔جس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ جو مجھ پر حملہ کرے گا