خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 101

خطبات محمود 1+1 سال ۱۹۳۷ء میں نے خدا تعالیٰ سے دوستی کی ، دوستی کی اور بہت ہی دوستی کی۔تو دعا کا اصل مقام وہی ہے جب بندہ اپنے خدا کو پالیتا ہے کیونکہ دعا اسی صورت میں کی جاسکتی ہے جب بندہ کا اپنے خدا کی ہستی اور اس کی قدرتوں پر کامل یقین ہو۔جب تم دنیا میں ایک معین در مشخص وجود کو آواز دیتے اور اسے اپنی طرف بلاتے ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تم اسے جانتے اور پہچانتے ہو۔لیکن اگر ایک شخص کو تم دیکھو کہ وہ کہ رہا ہواے زید ! آؤ مجھ سے مصافحہ کرو اور میرے پاس بیٹھو اور پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ یہ کہے کہ زید تو دنیا میں ہے ہی نہیں تو تم ایسے شخص کو پاگل کہو گے یا نہیں ؟ کیونکہ اگر زید دنیا میں تھا ہی نہیں تو اس نے کس طرح کہہ دیا تھا کہ آؤ زید مجھ سے مصافحہ کرو۔تو وہ مقام تر و دجوار ہاص کا مقام کہلاتا ہے ، جب انسان دعا کرتا ہے اور اُس کی دعا قبول کی جاتی ہے وہ اصل مقام نہیں بلکہ غیریت کا مقام ہے۔وہ ایسا ہی ہے جیسے اندھیرے میں سے گزرنے والا شخص کسی کو پکارتا اور کہتا ہے او بھائی ! میری مدد کرو۔اُسے اُس وقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں کوئی بھائی ہے بھی یا نہیں۔بلکہ وہ صرف اس لئے بھائی بھائی کہ رہا ہوتا ہے کہ شاید کوئی بھائی ہو اور وہ مدد کیلئے آ جائے۔چنانچہ ایسا کی ہی ہوتا ہے۔کبھی تو کوئی شخص اُس کی آواز سُن رہا ہوتا ہے اور وہ آواز سُن کر اُس کے پاس پہنچ جاتا ہے اور کبھی وہ یونہی اندھیرے میں سے آواز دیتے گزر جاتا ہے۔اسی طرح وہ شخص جو دعا کے مقام پر کھڑا نہیں وہ اگر کہتا ہے اے خدا میری مدد کر تو اُس کی اِس دعا کی وہی کیفیت ہے جو اندھیرے میں سے گزرنے والے شخص کی پکار کی ہوا کرتی ہے۔اس کی دعا کے جواب میں بھی اگر خدا تعالیٰ کی مدد اس کی مصلحت کے ماتحت آجاتی ہے تو کہہ دیتا ہے خدا تعالیٰ نے میری مدد کی اور بعض دفعہ یہ بھی نہیں کہتا بلکہ اتنا کہنا ہی کافی سمجھتا ہے کہ اتفاقِ حسنہ ایسا ہوا کہ میرا کام بن گیا۔لیکن اگر کبھی ایسا ہو کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت کے ماتحت اُس کی مدد اس کو نہ پہنچے تو یہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ ہم نے بہت دیکھ لیا، خدا کا وجود ہی کوئی نہیں۔حالانکہ اس نے دیکھا ہی کیا تھا۔اگر وہ دیکھ لیتا تو انکار کس طرح کرتا۔دیکھنے والا تو کبھی انکار نہیں کیا کرتا۔ہاں اندھیرے والا کہہ سکتا ہے کہ مجھے کچھ نظر نہیں آیا۔لیکن اس صورت میں بھی وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی خدا نہیں بلکہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اندھیرے میں رہا اور مجھے اس کی مدد نہ پہنچی۔ایک باپ اگر اپنے بچے کی کسی ضرورت کو بعض دفعہ پورا نہیں کرتا تو کیا بچہ کہ سکتا ہے کہ میرا باپ کوئی نہیں یا اگر تمہاری ماں تمہاری کسی ضرورت کو پورا نہ کرے تو تم کہہ سکتے ہو کہ ہماری ماں ہی کوئی نہیں۔تم یہ تو ی