خطبات محمود (جلد 18) — Page 92
خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۳۷ء حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو اُس کی آنکھیں کھلتی ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ چلو جو رشتہ بھی ملتا ہے اسے غنیمت سمجھنا چاہئے اور آخر اسے وہی کرنا پڑتا ہے جو ایک میراثی نے کیا تھا۔کہتے ہیں کسی میراثی نے خواب میں دیکھا کہ اسے کسی نے گائے انعام کے طور پر دی ہے۔اسے لے کر جب وہ گھر کو چلنے لگا تو راستہ میں اُسے ایک شخص ملا جس نے اُسے کہا کہ یہ گائے میرے پاس فروخت کر دو۔میراثی نے کہا اچھا لاؤ تمہیں روپے۔اُس نے کہا تم نے تو مفت ہی لی ہے۔تمہیں روپے کیسے چار آنے لے لو۔میراثی نے کہا نہیں چار آنے تو نہیں البتہ ۲۵ روپے لے لوں گا۔ادھر وہ چھ آنے تک بڑھا۔حتی کہ ہوتے ہوتے میراثی پانچ روپے پر پہنچا اور دوسرا دوروپے تک بڑھا۔اتنے میں میراثی کی آنکھ کھل گئی تو وہاں نہ گائے تھی نہ کوئی خریدار اور نہ روپیہ۔اس پر میراثی نے جھٹ آنکھیں بند کر لیں اور ہاتھ بڑھا کر کہنے لگا اچھا جمان لاؤ دو روپے ہی دے دو۔تو جومخلص ہوتے ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ ان کے اس رویہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یالڑ کی بیٹھی رہے گی یا پھر ہمیں دین چھوڑنا پڑے گا تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس طریق کو اختیار کرنے میں ہم نے غلطی کی اور وہ جھٹ جیسا رشتہ ملے اُس پر راضی ہو جاتے ہیں۔لیکن جو دنیا دار ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں جماعت میں نہیں ملتا نہ سہی باہر کر لیں گے اور شیطان باہر سے رشتہ اُنہیں دلا بھی دیتا ہے۔چوتھی دقت یہ ہے کہ ہماری جماعت میں تعلیم پر چونکہ زیادہ زور دیا جاتا ہے اس لئے دوستوں کو لڑکیوں کو تعلیم دلانے کی طرف بھی زیادہ توجہ ہے۔خصوصاً قادیان میں تو لڑکیوں کی تعلیم پر بہت ہی زوری دیا جا رہا ہے اور ایک طبقہ تو اس میں اس قدر منہمک ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ ایک وقت ایسا منہ کے بل گرے گا کہ اس کے لئے چوٹوں کی برداشت مشکل ہو جائے گی۔تعلیم لڑکیوں کو ایسے رنگ میں دلائی جاتی ہے کہ انہیں نوکری مل جائے۔لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ جولڑ کی ملازم ہوگی وہ بیوی بھی بن سکتی ہے یا نہیں؟ جو لڑکی پشاور میں ملازم ہوا اور لڑکا لکھنو میں اُن کے میاں بیوی والے تعلقات کیسے ہوں گے ، ہر شخص سمجھ سکتا ہی ہے۔میرے نزدیک تو ایسی شادی محض ایک دکھاوا ہے۔ایسی شادی کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔بہت ہی احمق ہوں گے جو ان حالات میں شادی کریں گے۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری شریعت بغیر شادی کے رہنے کی اجازت ہی نہیں دیتی اور ایسی شادیاں صرف دکھاوے کی شادیاں ہوتی ہیں اور شرعاً ایسے لوگ کی مجرم ہیں۔پھر لڑکیوں کو جوں جوں تعلیم ملتی ہے ان کیلئے خاوندوں کا معیار بھی بڑھتا جاتا ہے۔