خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 661 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 661

خطبات محمود ۶۶۱ سال ۱۹۳۷ء فضل سے اتنی بڑھ گئی ہے کہ منافق بھی یہاں کھپ جاتے ہیں۔پھر جن کو ذرا بھی باہر دشمنوں کی طرف سے تکالیف پہنچتی ہوں اردوہ ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے تو کہتے ہیں چلو قادیان میں ہجرت کر کے چلیں۔اس طرح کمزور ایمان والے بھی قادیان میں اکٹھے ہو سکتے ہیں۔غرض اُس وقت یہ اعلان کیا جاتا تھا کہ جس کے دل میں ایمان کا ایک ذرہ بھی ہوا سے چاہئے کہ ہجرت کر کے قادیان آئے اور اب ہمیں شرطیں لگانی پڑتی ہیں اور کہنا پڑتا ہے کہ جس کے دل میں بڑا پختہ ایمان ہو صرف وہ آئے ، دوسروں کے آنے کی ضرورت نہیں۔پھر کجا وہ وقت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بائیکاٹ کر دیا جاتا۔برتن بنانے والوں کو آپ کے برتن بنانے سے ، سقوں کو آپ کا پانی بھرنے سے اور چوہڑوں کو آپ کے مکانات کی صفائی کرنے سے روک دیا جاتا۔اور کجا آج یہ حالت ہے کہ قادیان میں ہر پیشے والے کثرت سے احمدی پائے جاتے ہیں۔بلکہ بعض پیشوں میں ۹۰-۸۰ فیصدی اور بعض پیشوں میں سو فیصدی احمدی ہی احمدی نظر آتے ہیں۔شاید آج سے چند سال پہلے میں یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ ہر پیشہ کے احمدی قادیان میں بکثرت موجود ہیں۔کیونکہ خاکروب جن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا احمدی نہیں تھے مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے خاکروب بھی احمدی ہیں اور کہانی جاسکتا کہ ہر پیشہ کے احمدی قادیان میں موجود ہیں۔پھر ان علاقوں میں جہاں پھرنے سے وحشت ہوتی کی تھی اور جھاؤ ہی جھاؤ نظر آتا تھا، وہاں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمارتیں ہی عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور یا ان رستوں پر چلنے سے انسان گھبرا تا تھا یا اب یہاں تقریریں ہوتی ہیں اور جلسے ہوتے ہیں۔تو اگر یہ کی درست ہے کہ انسانی فطرت اتنی گری ہوئی ہے کہ وہ حق بات مانتی نہیں تو یہ لوگ کہاں سے آگئے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ انسان کبھی صحیح راستہ اختیار نہیں کرتا۔وہ یا افراط کی طرف چلا جاتا ہے یا تفریط کی طرف۔یا تو وہ کہتا ہے کہ میری اصلاح ہو ہی نہیں سکتی اور یا وہ یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ میں ہی اصلاح کے قابل تھا باقی دنیا اصلاح کے قابل نہیں۔اسی طرح اگر اس کے اندر خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میری یہ کہاں قسمت ہے کہ مجھے ہدایت حاصل ہو۔اور جب اسے ہدایت مل جاتی ہے تو وہ یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ میں ہی دنیا میں ایک خوش قسمت انسان ہوں۔میں ہی جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہوں۔باقی سب دوزخی اور جہنمی ہیں۔حالانکہ اگر یہ آپ ڈوبتا ہے تب بھی نقصان ہے اور اگر یہ تو بیچ جاتا ہے مگر لوگ ڈوب جاتے ہیں تب بھی نقصان ہے۔کمال تو یہ