خطبات محمود (جلد 18) — Page 655
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کریں گے۔یہ چار خیالات انسان آپ ہی اپنے ذہن میں پیدا کر لیتا اور پھر اپنے نفس کو یہ کہتے ہوئے خوش کر لیتا ہے کہ میں نے لوگوں کی ہدایت کیلئے پورا زور لگا لیا۔حالانکہ یہ انسانی فطرت پر بد گمانی ہے اور ایسا خیال کرنا واقعات کے بھی خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر جستجو کا مادہ رکھا ہوا ہے اور ی چونکہ یہ طبعی مادہ ہے اس لئے کوئی بھی اس سے محروم نہیں۔انسان خواہ ہند و ہو خواہ عیسائی ، خواہ یہودی ہو خواہ مجوسی اندرونی طور پر اُس کا دل چاہتا ہے کہ میں صحیح راستہ اختیار کروں۔لیکن بدظنیاں، شقاق، لڑائیاں اور صحیح ذرائع کا ہم نہ پہنچنا اس کو بُرائی کی طرف مائل کر دیتے یا ہدایت سے کلیۂ محروم کرد۔ہیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کُلُّ مَوْلُودٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " یا ایک حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَة الْإِسْلَامِ فَاَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ اَوْ يُمَحِسَانِه ٣ کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ فطرت صحیحہ یا فطرتِ اسلامی پر پیدا ہوتا ہے۔فطرت اسلامی پر پیدا ہونے کے یہی معنی ہیں کہ فطرتی طور پر اُس کے اندر یہ خوبی رکھی جاتی ہے کہ سچائی کے آگے سر جھکا دے۔کیونکہ اسلام کے معنی اطاعت و انقیاد کے ہیں۔پس ہر بچہ کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات داخل کی ہے کہ وہ سچائی کے آگے سر جھکا دے۔مگر جب وہ بڑا ہوتا ہے تو فَابَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ اَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِسَانِہ۔اُس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔یعنی اس کی فطرت پر دوسرا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔اور جب اس کے سامنے ایسے عقائد بیان کئے جاتے ہیں جو فطرتِ صحیحہ کے خلاف ہوتے ہیں تو وہ اسی رو میں بہہ جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ فطرت انسانی میں نیکی رکھی گئی ہے اور وہ کبھی نہیں بدلتی۔ہاں عارضی پر دہ اس پر پڑ جائے تو فطرت کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔مگر جب بھی وہ پردہ اس سے اُٹھا دیا جائے فطرت اپنی اصل صورت میں جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ جب ایک شخص بعد میں یہودی یا عیسائی یا مجوسی بن جاتا ہے تو معلوم ہوا کہ فطرت بھی بدل جاتی ہے۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ فَاَبَوَاهُ يُغَيِّرَانِ فِطْرَتَہ کہ اُس کے ماں باپ اس کی فطرت کو بدل دیتے ہیں بلکہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ یہ ہے کہ فَاَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ اَوْيُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِسَانِهِ کہ اس کے ماں باپ کے اثرات کی وجہ سے وہ یہودی ہو جاتا ہے یا عیسائی ہو جاتا ہے یا مجوسی ہو جاتا ہے۔اب یہودی، عیسائی یا مجوسی ہو جانا اور چیز ہے اور فطرت انسانی کا بدلنا اور چیز ہے۔فطرت کے متعلق رسول کریم ﷺ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ پہاڑ کا ایک جگہ