خطبات محمود (جلد 18) — Page 654
خطبات محمود لده سال ۱۹۳۷ء اصلاح نفس اور تبلیغ احمدیت میں کامیابی حاصل کرنے کا مگر فرموده ۲۴ ؍ دسمبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- انسانی فطرت ہمیشہ ہی ہدایت کی جستجو میں رہتی ہے اور یہ ایک ایسا یقینی اور قطعی امر ہے کہ اس کے متعلق کبھی بھی ایک عقلمند اور غور و فکر کرنے والا انسان شبہ میں نہیں رہ سکتا۔لیکن باوجود اس کے انسانی نی تعصبات اتنے بڑھ گئے ہیں اور عارضی پر دے انسان کی عقل پر اتنے پڑ گئے ہیں کہ بالعموم ایک انسان کی دوسرے انسان کے متعلق بدظنی کی طرف مائل رہتا ہے اور اگر اسے دوسرے کی کوئی نیکی معلوم ہوتی ہے تو کی وہ اُس کو منافقت کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔یہ حالت دماغی ہمیشہ ہی فتنے اور فساد پیدا کرتی چلی جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت سے محروم بھی کر دیتی ہے بلکہ مایوسی پیدا ہی اسی وجہ سے ہوتی ہے۔مایوسی اور بدظنی لازم و ملزوم ہیں۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خاص طور پر تاکید فرمائی ہے فَذَكَرُ اِنْ نَّفَعَتِ الذِكری کہ تو لوگوں کو ہمیشہ سمجھا تارہ کیونکہ دنیا کا مشاہدہ اس کی بات پر گواہ ہے اور تجربہ اس کا شاہد کہ ہمیشہ ہی انسان کو نصیحت کرنے اور سمجھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی مایوسی کو دور فرمایا ہے کہ گھروں میں بیٹھے بیٹھے بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہے ہیں کہ لوگ ہماری باتیں نہیں سنیں گے اور اگر سُنیں گے تو توجہ نہیں کریں گے۔اور اگر توجہ کریں گے تو ان کی کو قبول نہیں کریں گے اور نہ وہ صحیح راستہ جو انہیں بتایا جائے گا اسے اختیار کریں گے اور اگر انہوں نے صحیح راستہ اختیار کر لیا اور ہماری بات کو مان بھی لیا تو صداقت کو عَلَى الْإِعْلان قبول کرنے کی جرات نہیں کی