خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 634

خطبات محمود ۶۳۴ سال ۱۹۳۷ء صلى الله ہے کہ صحابہ نماز پڑھتے ہوئے بھی رسول کریم ﷺ کا پہرہ رکھتے تھے۔اب شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ جو شخص امام سے پہلے اپنا سر سجدے سے اُٹھاتا ہے وہ سخت گناہ کرتا ہے اور قیامت کے روز اس کا سر گدھے کا سر بنایا جائے گا۔مگر اس حکم کی اس صحابی نے کوئی پروانہ کی اور نہ خدا اور خدا کے رسول نے اس کے اس فعل پر اظہار ناراضگی کیا اور یہ یقینی امر ہے کہ اس نے جو نماز میں ہی سراٹھا کر دیکھ لیا کہ کہیں خدانخواستہ رسول کریم ﷺ پر کسی نے حملہ تو نہیں کر دیا یا آپ بیمار تو نہیں ہو گئے ، یہ ایک بہت بڑی نیکی تھی۔تو نیکی کے تمام راستوں کو اختیار کرنا اور عشق اور محبت کے ماتحت دین میں ترقی کرنا، اسی کا نام تصوف ہے۔جوی شخص یہ تصوف اختیار کرتا ہے اُس پر رویا و کشوف اور الہامات کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔کلامِ الہی کے معارف واسرار سے اسے آگاہ کیا جاتا ہے اور محبت الہی کے رموز اس پر وا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔غرض تمام روحانی نعمتیں اسے میسر آجاتی ہیں مگر شرط یہی ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق محبت کا ہو اور محبت میں کوئی شرطیں اور حد بندیاں نہیں ہوتیں۔جو شخص شرطوں اور حد بندیوں کے اندر کام کرتا ہے خدا تعالیٰ کا اُس کے ساتھ وہی معاملہ ہوتا ہے جو ایک آقا کا نوکر کے ساتھ ہوتا ہے۔مگر جو شخص عشق میں سرشار ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس سے وہ سلوک کرتا ہے جو وہ اپنے پیاروں اور محبوبوں سے کیا کرتا ہے۔پس جلسہ سالانہ کے ایام میں جو دوست باہر سے آتے ہیں اور جو یہاں کے رہنے والے ہیں ان سب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان ایام کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں۔ہمارے سلسلہ کی بنیاد ہی محبت و عشق الہی پر ہے۔پس کوشش کرو کہ تمہارے اندر محبت الہی پیدا ہو۔تمہارے ہاتھ بیشک کاموں میں مشغول ہوں مگر تمہارے دل رو بہ خدا ہوں اور ان میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی محبت کی ٹیسیں اٹھ رہی ہوں اور ہر رنگ میں اس کی خوشنودی کے حصول کیلئے بے قرار رہو۔صحابہ نیکیوں کے حصول کے اتنے دلدادہ تھے کہ ایک دفعہ کوئی جنازہ گزرا تو ایک مجلس میں جہاں چند صحا بہ بیٹھے ہوئے تھے ایک صحابی کہنے لگے جنازے میں شامل ہونا بڑے ثواب کا کام ہے میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہوا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کے جنازے میں شامل ہوتا ہے اور پھر اس سے جدا نہیں ہوتا جب تک اسے دفن نہ کر دیا جائے ، اسے احد کے پہاڑ کے برابر ثواب ملتا ہے۔باقی صحابہ یہ روایت سن کر کہنے لگے نیک بخت تو نے یہ بات ہمیں پہلے کیوں نہ بتائی۔معلوم نہیں ہم اب تک کتنے احد کے پہاڑ جیسے ثواب ضائع کر چکے ہیں۔۱۳