خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 633

خطبات محمود ۶۳۳ سال ۱۹۳۷ء دماغی نقلیں صرف کاغذ کے پھول ہیں اور کاغذ کے پھولوں میں کبھی خوشبو نہیں ہو سکتی۔ہاں جو عشق میں مخمور ہو کر عشقی نقل کرتا ہے وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں بھی بعض دفعہ رسول کریم ﷺ کی طرف دیکھتے تھے کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔یہ عشق کی نقل تھی دماغی اور عقلی نقل نہیں تھی اس عشق میں بعض دفعہ ع عشق است و ہزار بدگمانی والا معاملہ بھی ہو جاتا ہے۔صلى الله ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کہ جب آپ سجدہ میں گئے تو آپ نے بہت دیر کر دی اور سجدہ بہت لمبا ہو گیا۔یہ دیکھ کر میرے دل میں وہم اٹھنا شروع ہو گیا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ ہو گیا ہو۔چنانچہ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت حسن رسول کریم ہے صلى الله۔صلى الله کی گردن پر اس طرح بیٹھے ہیں جس طرح کوئی گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔یہ دیکھ کر میں پھر جلدی سے سجدہ میں چلا گیا۔جب نماز ہو چکی تو باقی صحابہ نے عرض کیا کہ يَارَسُولَ اللهِ ! کیا سجدہ میں حضور پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے کہ اس قدر دیر حضور نے کردی؟ یا خدانخواستہ کوئی تکلیف ہوگئی تھی ؟ ہمیں تو سخت گھبراہٹ کی ہونے لگ گئی تھی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ خدا کے فضل سے کوئی تکلیف ہوئی ہے۔یہ ہمارا بیٹا ہماری گردن پر سواری کرنے بیٹھ گیا تھا اور ہم نے کہا کہ چلو تھوڑی دیر کیلئے یہ بھی سواری کر لے، اگر اسے ہٹایا تو اسے تکلیف ہوگی۔لے اب وہ صحابی نماز میں تھا مگر اس عشق کی وجہ سے جو اُسے رسول کریم ﷺ کی ذات سے تھا بے تاب ہو گیا اور وہ سجدہ سے ہی سر اُٹھا کر دیکھنے لگ گیا۔لوگ کہتے ہیں فلاں بزرگ کو نماز پڑھتے وقت اتنی محویت ہوتی ہے کہ انہیں بچھو نے ڈس لیا مگر انہیں ذرا احساس نہ ہوا۔فلاں بزرگ کونماز میں بھڑیں کاٹ گئیں اور انہوں نے پرواہ نہ کی۔یہ وقت بھی بعض دفعہ عشاق پر آتا ہے مگر اس صحابی میں اس سے جدا گانہ کیفیت پیدا ہوئی۔اور گو وہ نماز پڑھ رہے تھے مگر سجدہ کے ذرا لمبا ہو جانے کی وجہ سے ہی ان کے دل میں کئی قسم کے خیالات پیدا ہونے لگ گئے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہو گئی اور جب تک انہوں نے سراٹھا کر دیکھ نہ لیا ان کی تسلی نہ ہوئی۔اسی موقع پر میں ضمناً ان لوگوں کا ذکر بھی کر دینا چاہتا ہوں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قادیانی میں کچھ عرصہ سے نماز کے وقت پہرہ لگایا جاتا ہے جو شرعاً نا جائز ہے۔حالانکہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ی