خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 62

خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۳۷ء اور جس حد تک انسان الرّحیم کے جلوہ کو ظاہر کر سکتا ہے وہ رحیمیت کی روشنی کو دنیا میں پھیلائے اور جس حد تک وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين کا نمونہ قائم کر سکتا ہے وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کی شکل دنیا کو دکھائے۔اور ان اگر ہم غور کریں تو یہی ذریعہ توحید کامل کے قائم کرنے کا ہے کیونکہ شرک تو در حقیقت دوئی سے پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے کہ انسان کے سوا دنیا کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی صفات کو کی ظاہر کرتا اور اس کی سبوحیت کو بیان کر رہا ہے پس اگر کوئی شرک کی چیز باقی رہ گئی تو وہ صرف انسان کا وجود ہی ہے۔یہی چیز ہے جو کبھی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں دوسرے خدا قرار دیتی ہے، کبھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق دوسری چیزوں کو دے دیتی ہے، کبھی خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی انکار کر بیٹھتی ہے۔کبھی اس کی صفات میں نقائص پیدا کرتی ہے، کبھی بری چیزیں اس کی طرف منسوب کرنے لگ جاتی ہے۔کبھی ان چیزوں کو خدا بنا دیتی ہے جن کو خدا نے اس کے تابع بنایا ہے اور کبھی اپنے میں سے کسی آدمی کو خدا تعالیٰ کی صفات دے دیتی ہے۔باوجود ایک کمزور مخلوق ہونے کے یہ عجوبہ چیز خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کر کام کر کے دکھانا چاہتی ہے۔یعنی صفات کا وہ کامل ظہور جو خدا تعالیٰ نے اپنے لئے مخصوص کر دیا ہے، یہ ان کا خلعت بھی دوسرے لوگوں کو بخش دیتی ہے۔گویا انسان کہلاتے ہوئے خدا گر بنا چاہتی ہے۔اس مخلوق میں اگر فی الحقیقت خدائی صفات جلوہ گر ہوجائیں، اگر تمام انسان اپنے اندر ربوبیت عالمین اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیتِ يَوْمِ الدِین کی صفات کا پرتو پیدا کر لیں تو پھر دنیا میں سوائے خدا کے اور کونسی چیز باقی رہ جاتی ہے۔انسانوں کے سوا تو باقی چیزیں پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہیں۔انسان ہی ہے جو اس میں رخنہ ڈالتا ہے اگر وہ بھی ان صفات کا حامل ہو جائے اور بجائے ایک علیحدہ وجود رکھنے کے صرف خدا تعالیٰ کیلئے ایک آئینہ بن جائے جس میں دنیا خدا تعالیٰ کی صورت دیکھے تو بتاؤ شرک کیلئے کونسی چیز باقی رہ جاتی ہے۔سب جگہ پر خدا ہی خدا کا جلوہ نظر آ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔یہی مقام توحید ہے جس کے قائم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کھڑا کیا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود تو حید کے مقام پر کھڑے ہوں بلکہ دوسروں کو بھی اس مقام کی دعوت دیتے چلے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ تو حید دنیا میں قائم ہوتی چلی جائے اور شرک مٹتا چلا جائے ، نہ صرف زبانوں کے ذریعہ سے بلکہ اعمال کے ذریعہ سے بھی اور نہ صرف دعوی کے ساتھ بلکہ حقیقت کے ساتھ بھی۔