خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 619

خطبات محمود ۶۱۹ سال ۱۹۳۷ء سواری مراد ہے۔پس ہماری جماعت کو یہ مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور جلسہ سالانہ کے موقع پر نہ صرف خود آنا چاہئے بلکہ اپنے ہمسائیوں ، اپنے عزیزوں اور اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لانا چاہئے۔مگر اس کے ساتھ یہ امر بھی یادرکھنا چاہئے کہ ان ایام میں بے احتیاطیاں دل کو زیادہ سخت کر دیا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے مقدس مقامات کا احترام کرانا چاہتا ہے اور ہر شخص جو ان مقامات کا احترام نہیں کرتا اُس کی سرزنش کا مستحق ہوتا ہے۔جس طرح قادیان میں جلسہ سالانہ کے موقع پر آنا برکات کا موجب ہوتا ہے اسی طرح یہاں آنا اور پھر اپنے اوقات کا حرج کرنا اور انہیں علمی باتوں کے سننے میں صرف کرنے ہو مقدس مقامات کی زیارت کرنے کی بجائے رائیگاں کھو دینا دل پر زنگ لگا دیتا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ جب وہ جلسے پر آئیں تو یہ اقرار کر کے آیا کریں کہ ہم محض رسم پوری کرنے نہیں چلے بلکہ ہم وہاں خدا کا ذکر کریں گے۔جب جماعت میں بیٹھیں گے تب بھی اس کا ذکر کی کریں گے اور جب علیحدہ ہوں گے تب بھی اس کا ذکر کریں گے۔جماعتی ذکر ہمیشہ مجلس میں ہوتا ہے۔انسان باتیں سنتا ہے تو نصیحت حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف اس کے قلب کا میلان ہو جاتا ہے۔لیکن انفرادی ذکر الگ الگ ہوتا ہے۔دنیا میں چونکہ بعض طبائع ایسی ہیں جو اس وقت ذکر کی طرف توجہ قائم رکھ سکتی ہیں جب خود ذکر میں شامل ہوں اور بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جو دوسروں سے ذکر سنیں تو ذکر میں مشغول ہو جاتی ہیں نہ سنیں تو وہ بھی ذکر چھوڑ بیٹھتی ہیں۔اس لئے جماعتی اور انفرادی دونوں کی ذکر انسانی اصلاح کیلئے ضروری ہیں اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نمازوں میں جمع کر دیا ہے۔دیکھو ظہر اور عصر میں اس طرح نماز پڑھی جاتی ہے کہ ہر شخص اپنا انا ذکر کر رہا ہوتا ہے۔امام خاموشی سے اپنے طور پر ذکر کر رہا ہوتا ہے اور مقتدی اپنے طور پر۔پھر جب خاموش طور پر دُعا کی جاتی ہے تو ہر ایک کی دعا الگ الگ ہوتی ہے لیکن مغرب، عشاء اور فجر کے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ طریق مقرر کر دیا کہ جب امام سورۃ کی فاتحہ پڑھے تو تم بھی سورۂ فاتحہ پڑھو۔مگر جب وہ قرآن پڑھے تو تم خاموش رہو۔غرض قرآن کریم کے سننے میں ہم امام کے تابع ہوتے ہیں اور سورہ فاتحہ میں بھی ہم اس رنگ میں اس لئے تابع ہوتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب ملائکہ اور نمازیوں کی کی آمین ایک ہو جائے تو اُس وقت دعا قبول ہو جاتی ہے۔2ے اب ہمیں کیا پتہ ہوسکتا ہے کہ ملائکہ اور نمازیوں کی آمین ایک ہوئی ہے یا نہیں اور اگر ہوئی ہے تو کس وقت؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ ملائکہ کی آمین