خطبات محمود (جلد 18) — Page 611
خطبات محمود ۶۱۱ سال ۱۹۳۷ء ہم اس وقت یہاں دس ترکھان ہیں اگر میں ہو گئے تو ہمارے لئے کوئی کام نہیں رہے گا تو یہ بیوقوفی ہے۔وہ یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ کہ اس وقت تک یہاں کی آٹھ ہزار کی آبادی بھی تو سولہ ہزار ہو جائے گی۔باتیں اللہ تعالیٰ پر بدظنی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبروں نے تحریک کی کہ جلسہ کے دن بجائے تین کے دو کر دیئے جائیں۔کسی نے حضرت خلیفہ اول سے بھی اس کا ذکر کر دیا۔آپ کا یہ طریق تھا کہ بعض اوقات جب آپ صدر انجمن احمدیہ پر قابض جماعت پر ناراض ہوتے اور اُن سے کوئی بات کہنا چاہتے تو اُن کی بجائے مجھے مخاطب کر کے کہہ دیتے اور مطلب یہ ہوتا تھا کہ میں اُن کو پہنچا دوں۔جب آپ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے مجھے لکھا کہ میاں ! میں نے سنا ہے اب جلسہ کے دن تین کی بجائے دوکی کر دینے کی تجویز ہے مگر میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ لَا تَخْشِ مِنْ ذِى تَخْشَى اقْلَالاً س یعنی عرش والے خدا سے تم کمی کا خیال کیوں کرتے ہو۔لوگ آئیں گے ، ان کے ایمان اور اخلاص میں ترقی کی ہوگی اور اس طرح مال بھی زیادہ آئیں گے۔چنانچہ میں نے یہ بات انجمن کو لکھ بھیجی اور جلسہ بجائے دو دن ہونے کے تین دن ہی کیلئے رہنے دیا گیا۔پس پیشہ ور خدا تعالیٰ پر کیوں بدظنی کرتے ہیں۔ان کاموں کی کی ترقی جماعت کی ترقی ہوگی اور پیشہ وروں کو بھی تقویت ہوگی۔یہاں ایک زمانہ میں صرف ایک دو راج ہی تھے مگر اب بیسیوں ہیں۔اور خدا تعالیٰ سب کو رزق دیتا ہے اور اس زمانہ کے لحاظ سے اب ان کی آمدنی دُگنی تین گئی ہے۔اُس زمانہ میں یہاں مزدور تین چار آنہ روزانہ لیتا تھا اور راج اور ترکھان کی آمدنی آٹھ نو آنہ تھی مگر اب سوا اور ڈیڑھ روپیہ راج اور ترکھان کی اجرت ہے۔اور آٹھ نو آ نہ تو مزدور کو مل جاتے ہیں۔پیشہ ور اپنی اولادوں کو جو کام سکھا سکتے ہیں ان محکموں میں اس سے بہت بہتر سکھانے کا انتظام ہوگا کیونکہ ہم باہر سے ماہرین بلائیں گے۔اس لئے تمام افراد کو پورا پورا تعاون کرنا چاہئے کہ یہ محکمہ مضبوط ہو۔تا ہم اس قابل ہوسکیں کہ جلد سے جلد تمام ملک میں مبلغین پھیلا سکیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اب رمضان ختم ہونے کو ہے اور شاید دو دن ہی باقی ہوں گے اور رات تو شاید ایک ہی ہوگی اور یہ بات قریباً یقینی ہے کہ اتوار کو عید ہو جائے گی۔کیونکہ بعض کے روزے ہفتہ کو میں ہو جائیں گے۔بعض جگہ چاند جمعرات کے روز نظر آ گیا تھا اور اس طرح ان کا پہلا روزہ جمعہ کا تھا تو گویا ۲ دن باقی ہیں۔انسان کا قاعدہ ہے کہ جب اختتام کا