خطبات محمود (جلد 18) — Page 609
خطبات محمود ۶۰۹ سال ۱۹۳۷ء رو حضرت عمر جیسا بہادر شخص بھی صبر کھو بیٹھا اور ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔وہ صحابی ادھر سے گزرے اور حضرت عمر کو دیکھ کر کہا کہ عمر کیا بات ہے۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی ہے اور تم بیٹھے ر رہے ہو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ جنگ کا نقشہ بدل چکا ہے اور حضرت رسول کریمی شہید ہو چکے ہیں۔اس کے ہاتھ میں اُس وقت ایک دو کھجور میں باقی تھیں۔حضرت عمر سے یہ بات سنی تو کھجوریں پھینک دیں اور کہا کہ عمر ! پھر یہ رونے کا وقت نہیں۔جب آنحضرت شہید ہو گئے تو اب ہمارا بھی اس دنیا میں کوئی کام نہیں۔چنانچہ انہوں نے تلوار نکال لی اور ہزاروں کے لشکر میں جا گھسے اور شہید ہو گئے۔جب اُن کی لاش نکالی گئی تو اُس کے ٹکڑے تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخر تک تلوار چلاتے رہے۔اس لئے ان کافروں نے غصہ میں آکر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت ان کے متعلق ہے۔مگر یہ بات غلط ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت کسی خاص آدمی کیلئے ہو۔جب تک خدا تعالیٰ خود اس کا اظہار نہ کرے۔مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایسے ہی لوگوں کیلئے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور بعض اس انتظار میں ہیں کہ کب موقع ملے اور قربان کریں۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہزاروں لوگ جماعت میں موجود ہیں۔بے شک بعض کمزور بھی ہیں مگر ایسے بھی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ یعنی وہ جو اپنے وعدے پورے کر گئے۔اور ایسے لوگوں کی موجودگی کی جماعت کی ترقی کا موجب اور فتح کی ضمانت ہے۔وہ لوگ جو اپنے قول کے پکے ہیں، جو خدا تعالیٰ کے دین کیلئے اس کے بعض بندوں کے ہاتھ پر وعدہ کرتے ہیں اور پھر اسے پورا کر کے ہی چھوڑتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرماتا ہے کہ انہوں نے میرے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیا۔اس لئے ان کی کوششیں نا کام نہیں جانی چاہئیں۔پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ کمی کے لفظ سے جماعت سستی نہ کرے اور دوسری طرف جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ کام بہت بڑا ہے اور اس میں تعاون کی ضرورت ہے، نہ صرف چندہ کے ذریعہ سے بلکہ کام کے ذریعہ سے بھی۔قادیان کے لوگوں کو خصوصاً اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔غرباء کیلئے کام مہیا کرنے کی سکیم کا اس میں کیا شبہ ہے کہ پہلا فائدہ قادیان کے لوگوں کو پہنچے گا۔اس لئے انہیں اس میں زیادہ قربانی کرنی چاہئے۔مثلاً عورتوں کیلئے کام کی سکیم ہے اس کا بڑا فائدہ قادیان کے غریب خاندانوں