خطبات محمود (جلد 18) — Page 608
خطبات محمود ۶۰۸ سال ۱۹۳۷ء یہ رقم پوری نہیں ہو سکے گی۔مگر تحریک پر ایک ہفتہ بھی نہ گزرا کہ جماعت نے ۲۷۰۰۰ روپیہ نقد جمع کر دیا۔یہ ایک ایسا زندہ نشان ہے کہ جس کی مثال نہیں مل سکتی۔کسی معترض کو یہ نظر آئے یا نہ آئے مگر یہ ایک ایسی بات ہے کہ اگر اسے کسی غیر شخص کے سامنے رکھا جائے تو وہ تسلیم کرے گا کہ ایسے مُردہ ملک میں ایک زندہ جماعت ہے۔بے شک میں کہتا رہتا ہوں کہ جماعت سستی کرتی ہے مگر یہ نستی نسبتی ہے ، دوسروں کے مقابلہ میں سستی نہیں۔میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس معیار کی نسبت سے سستی ہے جس کا خدا تعالیٰ مطالبہ کرتا ہے ، ورنہ دوسری اقوام کی طوعی قربانیوں سے یہ قربانی بہت بڑھ کر ہے۔بے شک جماعت کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو فی الواقع شستی کرتا ہے لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہے جو قرآن کریم کی اس آیت کا مصداق ہے کہ فَمِنْهُم مَّنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ بعض ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں جان دے چکے ہیں یا یہ کہ اپنی نذریں اور وعدے پورے کر چکے ہیں۔اور بعض خدا کی راہ میں مرنے کیلئے یا اپنے وعدوں کو وقت آنے پر پورا کرنے کیلئے منتظر ہیں۔بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت ایک صحابی کے متعلق ہے جو بدر کی لڑائی میں شامل نہ ہوئے تھے۔رسول کریم ﷺ نے کسی مصلحت کی وجہ سے لوگوں کو بتایا نہیں تھا کہ اس موقع پر ایسی سخت جنگ ہونے والی ہے۔اس لئے بعض صحابہ شامل نہ ہو سکے۔جب صحابہ لڑائی سے واپس آئے اور لڑائی کے حالات سنائے تو ایک صحابی جو انصاری تھے اور بڑے مخلص تھے، وہ سنتے اور انہیں رہ رہ کر غصہ آتا اور بار بار کہتے کہ کاش! میں وہاں ہوتا اور تمہیں بتاتا کہ میں کیا کرتا۔سننے والے خیال کرتے تھے کہ انہیں یونہی غصہ آ رہا ہے۔آخر اُحد کی لڑائی کا وقت آگیا اور پھر اس کی لڑائی کا وہ موقع آیا جب ایک غلطی کی وجہ سے فتح کے بعد اسلامی لشکر تر بتر ہوگیا اور رسول کریم ہے کے ارد گر د صرف بارہ صحابی رہ گئے۔اور پھر ایک ایسار یلا آیا کہ وہ بارہ بھی پیچھے دھکیلے گئے اور رسول کریم کی اکیلے رہ گئے۔اور کفار نے پتھر مار مار کر آپ کو بیہوش کر دیا۔اُس وقت جو صحابہ آگے بڑھ سکے بڑھے اور شہید ہو ہو کر آپ کے اوپر گرتے گئے اور اس طرح آپ لاشوں کے نیچے دب گئے اور یہ خیال ہو گیا کہ آپ شہید ہو چکے ہیں۔لیکن یہ صحابی فتح کے بعد پیچھے ہٹ کر کچھ کھانے میں مشغول ہو گئے تھے اور انہیں ان حالات کا علم نہ تھا۔انہوں نے فتح کے وقت شاید یہ خیال کیا کہ اب تو صرف مال میں سے ہی حصہ لینا باقی ہے وہ نہ لیا تو کیا۔وہ بھوکے تھے اس لئے ایک طرف جا کر کھجور میں کھانے لگے۔انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ جنگ کا نقشہ پھر بدل گیا ہے۔جب یہ خیال پیدا ہوا کہ آنحضرت اللہ شہید ہو گئے ہیں تو