خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 607

خطبات محمود ۶۰۷ سال ۱۹۳۷ء جائیں اور دوسرے آئندہ کیلئے انہیں خیال ہو کہ غلط وعدہ نہیں کرنا چاہئے۔معافی مانگنے سے انہیں بے احتیاطی سے وعدہ کرنے پر شرم آئے گی اور آئندہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔اور دوسرے معافی لے لینے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں وعدہ توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔اور تیسرے میری غرض یہ کہنے سے یہ بھی ہے کہ جو دے سکتا ہے وہ دے دے اور یہ دین کا فائدہ ہے اور جو واقعی نہیں دے سکتے وہ اگر معافی لے کے لیں تو اس میں ان کا اپنا فائدہ ہے۔پس وہ تمام لوگ جو پہلے سال کا چندہ نہیں دے سکے ، جو دوسرے سال کا نہیں دے سکے اور جو تیسرے سال کا نہیں دے سکے، وہ یا تو معافی لے لیں اور یا ادا کر دیں۔تیسرے سال کیلئے تو ابھی بعض کیلئے میعاد باقی ہے۔بعض کی معیاد جنوری تک ہے اور بعض کی جون تک۔لیکن جو سمجھتے ہیں کہ میعاد کے اندر نہیں دے سکیں گے وہ اب بھی مہلت لے لیں اور جو سمجھتے ہیں کہ بالکل ہی نہیں دے سکیں گے وہ معاف کرا لیں۔اس سال کی تحریک کے متعلق میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ کمی کا وقت نازک ہوتا ہے اور یہ امتحان اور آزمائش کا وقت ہوتا ہے، اس لئے سستی نہ کریں۔گو اس وقت تک جو وعدے آرہے ہیں ان میں سے ایک کافی تعداد ایسی ہے جنہوں نے اب بھی تیسرے سال کے وعدہ سے زیادہ لکھایا ہے اور یہ ایمان کا ایک ایسا مظاہرہ ہے کہ جس کی نظیر دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔جو لوگ اعتراض کی کرتے ہیں کہ جماعت گر رہی ہے اور دہریت کی طرف جارہی ہے، ان سے میں کہتا ہوں کہ وہ غور کریں کیا یہ دہریوں کی علامت ہے؟ اس وقت جب ہر طرف مالی تنگی ہے ، غلوں کی قیمتیں گر رہی ہیں ، پھر قادیان کے لوگوں پر جبری قرضہ لگا دیا گیا ہے اور ساتھ امانتیں جمع کرانے کی بھی تحریک ہے اور ایسے وقت میں جب انجمن کے کئی لاکھ کے چندے بھی ہیں پھر بھی دوست کہہ رہے ہیں کہ ہم پہلے سے زیادہ دیں گے۔کیا یہ دہریوں یا بے دینوں کی علامت ہے؟ نہیں بلکہ یہ چیز بتاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ میں جبکہ خدا تعالیٰ پر بالکل مٹ چکا تھا اور دنیا کو دین پر مقدم کیا جاتا تھا ایک غریب ملک میں جو غیر ملکی لوگوں کے قبضہ میں ہے اور غلام ملک ہے، ایک ایسی زندہ جماعت قائم کی کر دی جو دین کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار ہے اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔پہلے سال میں نے کی صرف ۲۷۰۰۰ روپے کی تحریک تین سال کیلئے کی تھی اور کئی لوگوں نے کہا تھا کہ جماعت یہ روپیہ کہاں سے دے گی اور صدرانجمن کے چندوں کے بقایوں کی وجہ سے خیال کیا جاتا تھا کہ تین سال کے عرصہ میں بھی