خطبات محمود (جلد 18) — Page 598
خطبات محمود ۵۹۸ سال ۱۹۳۷ء روپیہ جو تو سیع مساجد کیلئے جمع ہو چکا ہے کیوں جمع رکھا ہوا ہے اور کیوں اسے معا خرچ کر کے مساجد کو وسیع نہیں کیا جاتا۔جہاں تک مجھے علم ہے اس وقت تک تین چار ہزار روپیہ جمع ہے۔اور گو مجھے عمارت وغیرہ کے متعلق واقفیت نہیں پھر بھی یہ کہہ سکتا ہوں کہ تین ہزار روپیہ لگا کر ایسی تبدیلی کی جاسکتی ہے کہ یہ ساری مسجد مردوں کیلئے ہی رہ جائے بلکہ اور بھی بڑھائی جاسکے اور عورتوں کیلئے علیحدہ جگہ بن سکے۔اردگرد کے مکانات سب خریدے جاچکے ہیں۔اگر صرف گلی کو ہی پاٹ لیا جاتا تو دوسرا مکان ساتھ ملا کر ہزار بارہ سو آدمی کیلئے اور جگہ نکل سکتی ہے اور کچھ حصہ عورتوں کیلئے وقف کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ خطبہ جمعہ کے متعلق دیر سے یہ سوال پیدا ہو چکا ہے کہ اب لوگ اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ ہر ایک تک آواز پہنچانا مشکل ہوتا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے لاؤڈ سپیکر بھی ایجاد کراد - ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔قریباً چھ ماہ کا عرصہ ہوا مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک ان دوست نے اپنے خرچ پر لاؤڈ سپیکر لگوا دینے کا وعدہ کیا ہے مگر معلوم نہیں ابھی تک لگا کیوں نہیں۔جب یہ حقیقت ہے کہ اس کی ضرورت بھی ہے ، ایک دوست نے وعدہ بھی کیا ہوا ہے تو پھر دیر کیوں ہے۔منتظمین کو یا درکھنا چاہئے کہ جتنے لوگ خطبہ سننے سے محروم رہتے ہیں اُتنا ہی وہ اس غرض کو فوت کرتے ہیں جس کی کیلئے جمعہ رکھا گیا ہے۔شریعت نے خطبہ کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق میں سے بھی کچھ وقت بندہ کو چھوڑ دیا ہے۔گویا اس طرح اللہ تعالی تمثیلی زبان میں فرماتا ہے کہ لو اس اہم کام کے لئے ہم بھی بندہ کو یہ وقت بطور تحفہ دیتے ہیں۔کیونکہ جو شخص جمعہ کی نماز میں شامل نہ ہو سکے اسے ظہر کی چار رکعتیں ہی پڑھنی پڑتی ہیں مگر جمعہ کی اللہ تعالیٰ نے دور کھی ہیں اور دو خطبہ کیلئے چھوڑ دی ہیں۔اس سے خطبہ کی عظمت کا پتہ لگ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے اپنی نماز میں سے وقت چھوڑ دیا ہے۔گویا اسے اتنی اہمیت دی ہے کہ اس میں دو رکعت کے وقت کا چندہ اپنی طرف سے دیا ہے اور فرمایا ہے کہ کی جمعہ کے روز جو لیکچر ہو اس میں سے دورکعت نماز کا وقت ہماری طرف سے بھی چھوڑا جاتا ہے۔اور جس کام کیلئے اللہ تعالیٰ اپنی ذاتی عبادت میں سے وقت دے اس کی اہمیت ظاہر ہے۔پھر جمعہ کو اس قدر اہمیت ہے کہ ایک سورۃ قرآن شریف میں اسی نام سے ہے۔پس اس عظیم الشان نیکی سے جماعت کے ایک حصہ کو بلا وجہ ایک لمبے عرصہ کیلئے محروم رکھنا بہت ہی بُری بات ہے۔جب ایک چیز ایجاد ہو چکی۔اس کی ضرورت بھی موجود ہے اور ایک دوست اخراجات ادا کرنے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کی