خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 564

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اپنے افسر سے اس کا ذکر کیا۔اس نے حکم دیا کہ اس لڑکے کو پکڑ کر لاؤ۔چنانچہ وہ انہیں اپنے افسر کے پاس لے گئے اور جب اس کے سامنے ان کی گدڑی پھاڑی گئی تو اس میں سے واقعہ میں چالیس اشرفیاں نکل آئیں۔وہ ڈاکوؤں کا افسر سید عبد القادر جیلانی صاحب سے کہنے لگا کہ تم نے یہ کیا بیوقوفی کی کہ اپنی اشرفیوں کا ہمیں پتہ دے دیا۔اگر تم کہہ دیتے کہ میرے پاس کچھ نہیں تو ہمیں تمہاری بات کا یقین آجاتا اور ہم میں سے کسی کا ذہن بھی اس طرف منتقل نہ ہوتا کہ تمہاری گدڑی میں اشرفیاں ہیں۔وہ اُس وقت بہت چھوٹی عمر کے تھے، بعض کہتے ہیں بارہ تیرہ سال کی عمر تھی۔مگر جب ڈاکوؤں کے سردار نے یہ بات کہی تو وہ کہنے لگے جب میری گدڑی میں اشرفیاں موجود تھیں تو میں کس طرح کہہ دیتا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ان کی اس بات کا ڈاکوؤں پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اُسی وقت ڈا کہ سے تو بہ کی۔اسی واقعہ کی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی پنجابی شاعر نے سید عبدالقادر صاحب جیلانی کی تعریف میں کہا ہے کہ چوروں قطب بنایا ع غرض سچائی جب ایک بچہ کے دل میں بھی داخل ہو جاتی ہے تو اُسے ایسا دلیر بنا دیتی ہے کہ وہ تمام دنیا کے مقابلہ میں نڈر ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے۔پھر جو ہمارے سردار اور آقا محمد مصطفی ملے ہیں انہیں دیکھ لو۔مکی زندگی میں ابوطالب جو آپ کے چاتھے آپ کی بہت حفاظت کرتے تھے اور چونکہ وہ اپنی چھی قوم کے سردار تھے اس لئے قریش مکہ رسول کریم ﷺ کو اس طرح دق نہیں کر سکتے تھے جس طرح وہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کو دق کیا کرتے تھے۔آخر جب رسول کریم ﷺ کے وعظ و نصیحت کو سُن سُن کر انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام بڑھتا جاتا ہے اور اگر اسے جلدی روکا نہ گیا تو اس کا مٹانا مشکل ہو جائے گا تو وہ سخت غیظ و غضب سے بھر گئے۔اور وہ ایک وفد کی صورت میں ابو طالب کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ آپ کے بھتیجے نے ہمیں سخت دق کر رکھا ہے۔وہ ہمارے بتوں کو گالیاں دیتا اور ایک خدا کا وعظ کرتا رہتا ہے۔آپ اسے سمجھائیں کہ وہ ایسا نہ کرے اور اگر وہ نہ رُکے تو آپ اس سے الگ ہو جائیں اور ہم پر اس کا معاملہ چھوڑ دیں ہم خود اسے روک لیں گے اور اگر آپ ان سے الگ ہونے کیلئے تیار نہ ہوں تو کی مجبوراً ہمیں آپ کی سرداری کو بھی جواب دینا پڑے گا اور پھر اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ابو طالب اپنے قبیلہ کے سردار تھے اور جن قوموں کی قبائلی زندگی ہوتی ہے وہ اپنی سرداری کی بڑی قیمت سمجھتی ہیں۔ابو طالب نے جب یہ بات سنی تو وہ گھبرا گئے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کو بلا کر کہا اے میرے بھتیجے !