خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 549

خطبات محمود ۵۴۹ سال ۱۹۳۷ء ہے۔کیونکہ جب ملک کی طرف سے قانون جاری کیا جائے تو اس کے ساتھ انعام اور صلے بھی جاری ہوتے ہیں اور ان کے وعدے کئے جاتے ہیں اور رحیم کے معنے یہی ہیں کہ اچھے کاموں کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتا ہے۔کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور یہ الحق کی صفت کا تقاضا ہے۔کیونکہ اَلْحَقُّ چاہتا ہے کہ اس کا کوئی وعدہ غلط نہ جائے اور جو جو اس نے لوگوں سے انعامات کے وعدے کئے ہیں ان کو ضروری مل جائیں۔پھر اَلْحَق کے معنے قائم رہنے اور قائم رکھنے کے بھی ہوتے ہیں۔اور رحیم کی صفت میں جو بار بار بدلہ دینے کے معنے پائے جاتے ہیں وہ اسی صفت سے تعلق رکھتے ہیں۔کیونکہ اَلْحَقُّ : صرف خود قائم رہتا ہے بلکہ وہ دوسروں کو بھی قائم رکھتا ہے۔اور انعامات کو بھی قائم رکھتا ہے۔حق در حقیقت مصدر ہے اور مصدر مبالغہ کے معنوں کے ساتھ اسم فاعل کے معنی بھی دے دیتا ہے۔جیسے کی العدل نہایت انصاف کرنے والے کو کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو رحم ہی رحم ہے یعنی بہت رحم کر نیوالا ہے۔پس الحق کے معنی اس کے مختلف معنوں کے رو سے قائم رہنے والے، قائم کہنے والے اور سچے وعدے کرنے والے کے ہوں گے اور چونکہ رحیم کے معنے کسی کے نیک کام کو کی ضائع نہ کرنے کے اور متواتر انعامات دینے کے ہیں، اس صفت کا تعلق الْحَقُّ سے ہے۔اَلْحَقُّ ہی ہے جو دیکھتا ہے کہ کوئی وعدہ غلط نہ ہوا اور اس کے مورد صرف ایک دفعہ ہی انعام نہ پائیں بلکہ انعام پاتے ہی جائیں اور دائمی زندگی ان کو عطا ہو۔غرض مزدوری کا تعلق الْحَقُّ سے ہے کیونکہ وعدے آئندہ کیلئے ہی تی ہوتے ہیں اور کام کے بعد پورے کئے جاتے ہیں۔مگر بخشش پہلے ہوتی ہے۔کوئی فقیر آتا ہے تو انسان فوراً اسے روٹی دے دیتا ہے۔کسی محتاج کو دیکھتا ہے تو پیسے دے دیتا ہے۔مگر اولا د اور دوستوں کیلئے وعد۔ہوتے ہیں۔پہلے ان کے سپر د خدمات کی جاتی ہیں۔پس الْحَقُّ کا تعلق رحیمیت سے ہے۔پھر فرمایا لا إلهَ إِلَّا هُوَ یہ رحمانیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔رحمانیت کا تقاضا ہے کہ ہر زمانہ میں ہر ایک کی ضرورتیں پوری ہوں خواہ کوئی کام کرے یا نہ کرے اور یہ توحید الہی کی ایک دلیل ہے کیونکہ بغیر کسی شگاف یا وقفہ کے سب کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی بچہ پیدا ہوا ہو اور اس کیلئے دودھ کی ضرورت پوری نہ ہو۔نادان خیال کرتا ہے کہ یہ دودھ آج پیدا ہوا ہے۔حالانکہ یہ مسیح نہیں۔جس وقت دنیا کی پیدائش ہوئی اُسی وقت زید یا بکر کا دودھ بھی پیدا ہوا تھا۔یہ چھاتی کا دودھ ماں کے خون سے پیدا ہوا ہے اور خون ان جمادی حیوانی یا نباتی غذاؤں سے جو انسان کھاتا ہے اور ان میں۔