خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 54

خطبات محمود ۵۴ سال ۱۹۳۷ء خود کھا رہا تھا۔تو دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دوسرے کی بات پر ہنستے ہیں مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ خود اس کے زیادہ مرتکب ہورہے ہیں۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اگر تم کسی شخص کو تصویر کو دیکھنے کے بجائے سُونگھتا ہوا دیکھو اور آواز کو سننے کی بجائے اسے سونگھنے کی کوشش کرتا ہوا پاؤ اور خوشبو کوسونگھنے کی بجائے دیکھنے کی کوشش کرتے دیکھو اور ملائمت کو زبان سے چکھنے کی کوشش میں پاؤ اور مٹھاس یا کھٹاس کا پتہ لگانے کیلئے ہاتھ کا استعمال کرتے دیکھو تو فورا قہقہہ لگا کر کہہ دو گے کہ یہ شخص پاگل ہو گیا ہے۔مگر کیا ہی عجیب بات ہے کہ تم میں۔اکثر اس چیز کو جسے وہ کسی کھانے والی یا سونگھنے والی یا دیکھنے والی چیز سے بہت زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں اور جس کیلئے کئی ایک نے اپنی جائدادیں چھوڑ دی ہیں۔ماں باپ، بھائی بہن اور رشتہ داروں کو ترک کر دیا ہے اور وہ ظاہری قربانیاں جو انسان پر گراں گزرتی ہیں وہ اس چیز کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ان پر آسان کی ہو گئیں اور اس کے لئے ان کی قربانیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی قیمت ان کے دلوں میں بہت زیادہ ہے اور بظاہر وہ اس کے حصول کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں مگر پھر بھی وہ ان کو نہیں ملتی۔لیکن وہ یہ معلوم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے کہ کیوں نہیں ملتی۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ مجھ سے مانگو تو میں دوں گا۔مگر تم مانگتے بھی ہو، اس کیلئے قربانی کرتے بھی نظر آتے ہو مگر وہ ملتی نہیں اور اگر تم قرآن کریم ، حدیث اور عقل و علم کے ماتحت غور کرو تو اس سوال کا ایک ہی جواب تمہیں ملے گا کہ تمہاری کوشش غلط طور پر ہو رہی ہے۔دنیا میں انسان کو ناکامی ہمیشہ یا تو اس لئے ہوتی ہے کہ اس کے اندر خواہش نہیں ہوتی یا اس لئے کہ وہ جد و جہد نہیں کرتا اور یا پھر اس لئے کہ وہ چیز ہی نہیں ہوتی۔لیکن اگر یہ تینوں باتیں ہوں تو جی ناکامی کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ جد و جہد غلط طور پر ہورہی ہے۔جب پانی بھی موجود ہو، اُس پر کی قبضہ بھی ہو اور پیاس بھی لگی ہو تو پھر بھی اگر پیاس نہ بجھے تو اس کے صاف معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ جد و جہد غلط ہے۔اور ممکن ہے پیاس بجھانے کی کوشش کرنے والا بجائے منہ میں پانی ڈالنے کے ناک یا کان میں ڈال رہا ہو۔میں نے تم کو تحریک جدید کی شروع کی تحریکوں میں یہ بتایا تھا کہ صحیح مذہبی ترقی کیلئے سچائی ضروری چیز ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور نڈر ہو جانا بھی بہت ہی ضروری ہے۔اور میرے نقطہ نگاہ سے تو سچائی اور بے خوفی ایک ہی چیز ہے۔جو بے خوف ہو وہ ضرور سچا ہوگا اور جو سچا ہو وہ کی