خطبات محمود (جلد 18) — Page 527
خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۳۷ء نظام سے فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔پھر اس احتیاط کی اس لئے بھی ضرورت تھی کہ انہوں نے شروع سے ہی یہ طریقہ رکھا ہوا تھا کہ مخفی طور پر لوگوں پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کرتے تھے اور آخر میں تو انہوں نے اخبارات میں بھی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ مخفی طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے اور ان کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔پھر صرف اعلان پر بس نہیں وہ مخفی طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کی کوششیں اب تک کر رہے ہیں اور اس کے یقینی ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں اور وہ ایسے واضح ثبوت ہیں کہ جب ان کو ظاہر کیا گیا تو ان کیلئے ان باتوں کا انکار کرنا بہت مشکل ہوگا۔ایسی صورت میں ہمارا فرض تھا کہ ہم ان سے بول چال اور لین دین وغیرہ کے تعلقات رکھنے کے راستہ کو ایک قاعدہ کے ماتحت لا کر اس فتنہ کو دور کرتے۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہ احتیاطیں مخفی پروپیگنڈا کے متعلق تھیں۔ورنہ ظاہر پروپیگنڈا سے اگر شرافت کی حد کے اندر ہو میں نے کبھی نہیں روکا۔چنانچہ جو اشتہارات وہ بورڈوں پر چسپاں کرتے رہے ہیں ان کے متعلق کیا میں نے کبھی یہ اعلان کیا ہے کہ لوگ انہیں نہ پڑھیں۔بلکہ ایک دفعہ انہوں نے بورڈ پر اشتہار لگا یا تو غالباً مولوی ابوالعطاء صاحب کی چٹھی مجھے آئی کہ لوگ اسے پڑھنے کیلئے بہت جمع ہو گئے اور وہ اسے پڑھ کر غیظ و غضب سے بھر گئے جس سے فساد کا خطرہ ہے مناسب ہے کہ ایک اعلان کے ذریعہ لوگوں کو اس قسم کے اشتہارات پڑھنے سے وک دیا جائے۔مگر میں نے اس کا یہی جواب دیا کہ اس قسم کی ممانعت میں پسند نہیں کرتا۔کیونکہ اس کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ میں لوگوں کو تحقیق سے روکتا ہوں۔میں دلائل اور صحیح طریق تبلیغ کا مخالفت نہیں ہوں۔میں تو خود ہمیشہ ہی حق کا متلاشی رہا ہوں اور کی یہی میری روح کی غذا ہے۔اگر وہ دلائل سے مجھ پر غالب آ سکتے ہیں تو شوق سے آجائیں۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔میرا اعتراض یہ ہے کہ وہ ناجائز کارروائیاں کرتے ہیں جو کسی مذہب میں بھی جائز نہیں اور چونکہ وہ تہذیب اور شرافت اور اسلامی احکام سے تجاوز کر کے ایسی حرکات کے مرتکب ہیں اس کی لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی جماعت کے احباب کو ان سے ایسے تعلقات سے روکیں جو فساد کا کی موجب ہوسکیں۔یہی وجہ ہے کہ آج تک جس قدر احکام سلسلہ کی طرف سے اس قسم کے نافذ کئے گئے جن میں دوسروں سے بول چال کی ممانعت تھی تو وہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق تھے جن کے افعال میں سازش کا رنگ پایا جا تا تھا۔ورنہ اگر کسی کے افعال میں سازش نہ ہو اور وہ عَلَی الْإِعْلان ہم سے الگ ہو کر کسی